ہائی بلڈ پریشر اور رسک فیکٹر

Back to Blog
ہائی بلڈ پریشر خاموش خطرہ

ہائی بلڈ پریشر اور رسک فیکٹر

 ہائی بلڈ پریشر اور  رسک فیکٹر

رسک فیکٹر یا خطرے کا سبب بنیادی طور پر ایسی نقصان دہ صلاحیت رکھتا ہے جو انسان میں مخصوص بیماری یا معذوری کو جنم دے سکتے 
ہیں۔ ایسے افراد جن میں رسک فیکٹر زیادہ ہوتے ہیں وہ متعلقہ مہلک بیماریوں کی زد میں ان افراد کی نسبت جلد یا شدت سے آتے ہیں جن میں یہ رسک فیکٹر نہیں پائے جاتے۔
انسانی جسم میں خون کی گردش کو برقرار رکھنے والی شریانوں، نسوں، رگوں اور وریدوں کی بیماریوں (جن کے نتیجے میں دل کا دورہ، دماغ کی نس کا پھٹنا اور گردے کا ناکارہ ہونا شامل ہے) اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق دماغ کی شریان پھٹنے اور دل کے دورے سے دوچار ہونے والے افراد میں رسک فیکٹر عام افراد کی نسبت بہت زیادہ پائے جاتے ہیں،
موروثی
موروثی اسباب کی مختلف اقسام، جن میں سے متعدد ابھی تک احاطہ علم میں نہیں آئیں ہیں ۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ خاندانی اثر فرد میں ہائی بلڈ پریشر پیدا کرنے میں موثر کردار ادا کرتا ہے مریضوں کی اکثریت کے مطالعہ سے ثابت ہوچکا ہے کہ یہ مرض وراثت میں نسل در نسل بھی ہوسکتا ہے۔ ہائپر ٹینشن ان افراد میں زیادہ شرح کے ساتھ پایا جاسکتا ہے جن کے باپ دادا کو بلڈ پریشر کا مرض رہا ہے یا اس مرض کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔ میڈیکل سائنس اس موروثی (خاندانی) سبب کے بارے میں مزید کچھ بتانے سے ابھی تک معذور ہے۔
موٹاپا
موٹاپا یا زائد وزن رسک فیکٹرز کو فروغ دیتا ہے اس لئے بذات خود بھی ایک خطرہ اور رسک فیکٹر قرار دیا جاتا ہے۔ 85 فیصد شوگر کے مریض 80فیصد خون میں کولیسٹرول کی بہتات رکھنے والے افراد، 70 فیصد افراد جو خون میں یورک ایسڈ کی فراوانی رکھتے ہیں اور 60 فیصد افراد جو ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہوتے ہیں ان کو زائد وزن کا بنیادی رسک فیکٹر درپیش ہوتا ہے۔ 
 موٹاپے یا زائد وزن کا سبب زیادہ کھانا یا کاہلی سستی ہوتا ہے ایسے افراد کے روزمرہ معمول میں ورزش یا جسمانی بھاگ دوڑ کی کمی ہوتی ہے۔ عموماً ایسے افراد کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں دفاتر میں میز کرسی تک اور کارخانوں میں مشینوں پر ایک جگہ پابند رہنے تک محدود ہوتی ہیں اسی طرح کچھ لوگوں کی سارے دن کی مصروفیات محض ڈرائیونگ سیٹ پرختم ہوجاتی ہیں۔
 زیادہ وزن دوسرے رسک فیکٹر میں شدت پیداکرسکتا ہے یوں صحت کے لئے خطرات پیدا ہوجاتے ہیں اس اہم فیکٹر سے بچا جاسکتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے افراد جن کا وزن معمول سے 20 فیصد زیادہ تھا ان میں ہائی بلڈ پریشر پیدا ہونے کے امکانات عام افراد سے تین گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ جس طرح زیادہ وزنہونے سے افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوجاتے ہیں اسی طرح وزن نارمل کرلینے سے بلڈ پریشر بھی نارمل ہوجاتا ہے۔
چکنائی
اگر ہم اپنی غذا میں جسم کی ضرورت سے زیادہ چربی استعمال کریں تو ہمارے خون میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے خون میں چربی کی زائد مقدار زیادہ عرصہ تک موجود رہے تو یہ شریانوں کی دیواروں سے چپک کر ان دیواروں کی توڑ پھوڑ کے عمل کو تیز کردیتی ہے۔ خون میں چربی کے اجزاء دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک کولیسٹرول کہتے ہیں جبکہ دوسرے کو ٹرائی گلیسرائیڈز کہتے ہیں۔ شریانوں کی توڑپھوڑ اور ان کوتنگ کرنے کے عمل میں کولیسٹرول اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 
 کولیسٹرول کی زیادہ مقدار ہمارے جسم میں خودبخود پیدا ہوتی ہے لیکن خون میں کولیسٹرول کی مقدار کا تعلق ہماری غذا کی نوعیت سے ہوتا ہے اگر ہم ایسی غذا استعمال کرتے ہیں جو حیوانی گوشت پر مشتمل ہو تو اس گوشت میں پہلے سے موجود کولیسٹرول ہمارے خون میں داخل ہوکر ہمارے کولیسٹرول کی مقدار بڑھادیتے ہیں۔ 
 میٹابولزم ہمارے جسم میں نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) یعنی چینی، گندم اورچاول وغیرہ کو چکنائی میں تبدیل کرتا ہے ۔ اگر ہم کاربوہائیڈریٹس ضرورت سے زیادہ استعمال کریں تو یہ جسم میں چکنائی میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔
 درمیانی عمر کے وہ افراد جن کے خون میں کولیسٹرول کی مقدار 250 ملی گرام فیصد ہو، انہیں ہارٹ اٹیک کا معمولی خطرہ ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے یہ مقدار بڑھتی جاتی ہے خطرہ بھی بڑھتا جاتا ہے اس طرح خون میں ٹرگلیسرائیڈز کی بڑھتی ہوئی مقدار بھی خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے اسے بھی کسی طور نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئیے۔ 
نمک
کیمیائی مرکب، سوڈیم کلورائیڈ، ہمارے جسم کی ایک معدنی ضرورت ہے۔ لیکن بعض اوقات نمک کسی فرد کی صحت کے لئے ضرر رساں بھی بن جاتا ہے تب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ نمک کی کتنی مقدار اپنے جسم کو مہیا کررہا ہے اور اس کے جسم کی ضرورت کتنی ہے۔ قدیم انسان۔۔۔ ایک شکاری کی حیثیت سے بغیر نمک کے غذا استعمال کرتا تھا بالکل اسی طرح جیسے آج کل جانور یا مویشی کرتے ہیں لیکن عرصہ ہوا انسان نے سمندر سے یا کان سے حاصل ہونے والے نمک کو اپنے کھانے میں شامل کرلیا ہے۔ اب یہ ہماری خوراک کا اہم جزو ہے۔ مغرب کا ایک فرد روزانہ 1/3 سے 1/2 اونس یا 10 سے 15 گرام تک نمک استعمال کرتا ہے حالانکہ انسان کی روزانہ ضرورت 1/6 اونس یا 3 سے 5 گرام سب سے پہلے 
دیگر رسک فیکٹر
تمباکو نوشی
آسودگی کی تلاش اور بوریت سے نجات کے متمنی انسان نے تمباکو کی طرف ہاتھ بڑھایا تو تیزی سے عادت بن جانے والے مادے نکوٹین نے اس کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اب یہ لعنت قابو سے باہر ہے۔ سگریٹوں کی قیمتوں میں اضافے اور پیکٹوں پر انتباہی تحریروں کے باوجود سگریٹ نوشی دنیا بھر میں وقت کاٹنے کا مقبول ترین ذریعہ ہے۔
سگریٹ نوشی ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے منفی اثرات رکھتی ہے ایک سگریٹ پینے سے تھوڑی دیر کے لئے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ابھی اس بات کا علم نہیں ہوسکا کہ یہ بلڈ پریشر میں مستقل رہنے والے اضافے کو قائم رکھنے میں کوئی کردار ادا کرتا ہے یا نہیں۔ تاہم یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے جو مریض تمباکو نوشی کرتے ہیں ان میں مرض کا شدت اختیار کرلینا معمول ہے۔
ہائی بلڈ پریشر بذات خود ایک سنگین رسک فیکٹر ہے اس کے ساتھ تمباکو نوشی بھی جاری ہو تو تمباکو کا عنصر نکوٹین زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ 
 نکوٹین خون میں کولیسٹرول اور چربیلے تیزابوں میں اضافہ کرتی ہے جبکہ اس کے برعکس خون میں مفید کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل۔ہائی ڈینسٹی کولیسٹرول) کی مقدار کم کرتی ہے۔ یہ تناسب کی تبدیلی دل و دماغ اور ٹانگوں کی اہم شریانوں میں ایتھروما (چربیلے مواد کے اجتماع) کی نشوونما میں سہولت پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ انجائنا، ہارٹ اٹیک اورٹانگوں کے گینگرین کے واقعات میں اضافہ ممکن ہوجاتا ہے۔ 
 نکوٹین دل کی رفتار بھی تیز کرتی ہے دھڑکنوں میں اضافے سے دل کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ 
 سگریٹ کے دھوئیں میں موجود کاربن مونوآکسائیڈ خون کے ہیموگلوبن کے ساتھ مل کر ایک مرکب کاربو اوکسی ہیموگلوبن بناتی ہے۔ یہ مرکب صاف ہیموگلوبن کی طرح آکسیجن جذب کرکے اسے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانے کا کام نہیں کرسکتا۔ خون میں اس کی بہتات سے جسم بالعموم اور دل اور دماغ بالخصوص آکسیجن سے محروم ہونے لگتے ہیں اس کے نتیجہ میں انجائنا بگڑجاتا ہے۔
تمباکو نوشی کئی اور سنگین بیماریوں کو جنم دیتی ہے یا ان کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔ ان میں منہ اور پھیپھڑوں کا کینسر، پرانا براونکائٹس اور سانس میں رکاوٹ اورکانجیسٹو کارڈیک فیلیور شامل ہے۔ 
 ایک پیکٹ (20 سگریٹ) روزانہ پینے والے فرد کو تمباکو نوشی نہ کرنے والے فرد کی نسبت ہارٹ اٹیک کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ چنانچہ جس قدر سگریٹ کی مقدار بڑھے گی خطرے کی سنگینی بھی بڑھے گی۔ 
 لگاتار سگریٹ نوشی کرنے والے (چین اسموکر) کو تمباکو نوشی نہ کرنے والے فرد کی نسبت ہارٹ اٹیک کا خطرہ چھ گنا زیادہ ہوتا ہے ۔
ذیابیطس شوگر
انسولین ایک ہارمون ہے جو لبلبہ نامی غدود ہمارے جسم میں تیار کرتا ہے۔ ذیابیطس کے مرض میں انسولین کی پیداواری میں کمی آجاتی ہے یا لبلبہ کی کارکردگی میں رکاوٹ آجاتی ہے نتیجتاً ریشے انسولین کی عدم موجودگی کے سبب اس قابل نہیں رہتے کہ شوگر کو جذب کرکے اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرسکیں چنانچہ شوگر خون میں جمع ہونے لگتی ہے یوں خون میں شوگر (گلوکوز) کی سطح بلند ہوجاتی ہے اورجب یہ 180 ملی گرام فیصد یا اس سے زیادہ ہوجاتی ہے تو پیشاب میں آنے لگتی ہے۔
اگر آپ ذیابیطس کے ساتھ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں تو آپ کو اپنی خوراک میں مناسب پابندیوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ ہائی بلڈ پریشر کی طرح ذیابیطس پر کنٹرول بھی ساری عمر کا عمل ہے۔ نیم دلی سے کئے جانے والے اقدامات موثر ثابت نہیں ہوتے۔
شوگر کو جزو بدن بنانے والا نظام جب خراب ہوتا ہے تو جسم کے دوسرے میٹابولزم (غذا کو جزو بدن بنانے والا نظام) کو بھی خراب کرتا ہے۔ 
 بلڈ کولیسٹرول اور ایل ڈی ایل) لو ڈینسٹی لیپڈز) کولیسٹرول میں اضافہ ہوجاتا ہے ان کی وجہ سے شریانو ں میں ایتھروما کی نشوونما میں تیزی آجاتی ہے چنانچہ ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

شوگر کے مریضوں کو ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک جیسی عمر کے افراد میں سے ان کو ہائی بلڈ پریشر کا مرض ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جن میں شوگر بھی ہو، یہ خطرہ شوگر ے مریض مردوں اور عورتوں میں ایک جیسا ہوتا ہے۔ شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کی بیک وقت موجودگی امراض قلب کو یقینی بنانے کا موجب بنتی ہے اسی طرح اگر کسی شوگر کے مریض کو خون کے ذرّات کی تباہی کی بیماری بھی لاحق ہو تو اسے شوگر گینگرین کا خطرہ بھی رہتا ہے۔

رسک فیکٹرز کے بُرے اثرات

رسک فیکٹرز اور امراض قلب کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ ان کی موجودگی سے دل کو خون سپلائی کرنے والی نالیاں اور دیگر شریانیں سکڑنے یا بند ہونے کے امراض میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ شریانوں کی دیواروں کی شکست و ریخت سارے نظام کو درہم برہم کردیتی ہے سنگین صورتحال یہی ہے کہ جب یہ فیکٹر پیدا ہوتا ہے تو نظرانداز ہونے کے سبب اپنے انتہائی نقصان دہ عمل کو مکمل کرلیتا ہے۔ چاہے ہماری عمر زیادہ نہ ہو یہ داخلی نظام کو ضعیف العمر فرد جیسا بنادیتا ہے 

شریانوں کے بند ہونے کے

 مرض میں ان کی دیواروں کی لچک ختم ہوجاتی ہے ان کی ساخت بگڑ کر سخت ریشوں کی شکل اختیارکرلیتی ہے۔
 دیواروں پر کیلشیم سالٹ جم جاتا ہے چنانچہ شریانوں کی اندرونی دیواروں کے ساتھ خون کے کلاٹ (لوتھڑے) چپکنا شروع ہوجاتے ہیں۔ 
 لچکدار شریانیں غیر لچکدار ٹیوبوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ 
دیواریں موٹی اورسخت ہوجانے سے آکسیجن اور غذا کی فراہمی رک جاتی ہے دل کے پٹھوں کے خلیے تباہ ہوکر مرجاتے ہیں انجام کار مریض دل کے دورے اور ہارٹ فیل سے دوچار ہوجاتا ہے۔
 شریانوں کے بگاڑ سے تین اہم عضو دل، دماغ اورگردے خطرے اورپیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر سے منسلک دو بڑے رسک فیکٹر تمباکو نوشی اور کولیسٹرول کی بہتات خطرات کو کئی گنا بڑھادیتی ہے۔

موٹاپے (زائد وزن) 

کے ساتھ شوگر والے مریض اگر تمباکو نوشی کرتے ہیں (چاہے کم یا زیادہ) انہیں ہائی بلڈ پریشر ہوتا ہے اسی طرح جس فرد میں ایک سے زائدرسک فیکٹر ہوں وہ بھی خطرے کی زد میں ہوتا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ بھی خطرے کی زد میں ہیں اور آپ کو اس بات کی خبر ہی نہ ہو۔ اس لئے یہ بات خود آپ کے مفاد میں ہے کہ آپ اس امر کا یقین کرلیں ۔

یہ مضمون احساس انفورمییٹکس (پاکستان)۔
https://ahsasinfo.com
کی کتاب ،،ہایؑ بلڈ پریشر،،سے منتخب کیا ہے
مدیر: ڈاکٹر امین بیگ
نظرَثانی: ڈاکٹر طارق عزیز۔ایف-سی-پی-ایس(میڈیسن)

مزید آگاہی کے لیےؑ ویب پر کتاب کا مطالعہ کیجےؑ

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Blog