انگور(Grapes)
انگور(Grapes)

انگوراپنے قیمتی غذائی اجزاء کی بدولت زبردست غذائی اہمیت رکھتا ہے۔۔ اس میں پائی جانے والی وافر مقدارمیں شکرزیادہ تر گلوکوز پر مشتمل ہوتی ہے۔ انگور میں پایا جانے والا گلوکوز مختلف اقسام میں مختلف شرح سے 15سے 25 فیصد تک موجود ہوتا ہے۔ گلوکوز پہلے سے ہضم شدہ غذا ہے جو معدے میں پہنچنے کے فوراً بعد خون میں جذب ہوجاتی ہے۔ انگور فوری طورپر جسم کو حرارت اورتوانائی مہیا کرتے ہیں۔
فوائد
قبض سے نجات کے لئے روزانہ 350 گرام انگورکھانا ضروری ہے۔ اگرتازہ انگوردستیاب نہ ہوں تو کشمش کو پانی میں کچھ دیر بھگورکھنے کے بعد استعمال کیا جاسکتا ہے۔
بدہضمی: انگوربدہضمی میں بہت نافع ہیں۔ یہ ایسے اجزا پر مشتمل ہیں جو اسے ہلکی پھلکی غذا بناتے ہیں، بدہضمی دور کرتے ہیں۔
دل کی بیماری: یہ دل کو تقویت دیتے ہیں۔ ل کے درد اوراختلاف قلب (دل کی تیز دھڑکن) کا خاتمہ کرتے ہیں۔ اگر مریض انگوروں کو کچھ دن تک اپنی اکلوتی غذا بنالے تو مرض پر تیزی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔
گردوں کی بیماریاں : انگورمیں پانی اور پوٹاشیم کی مقدار کافی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منفرد قسم کی پیشاب آور صلاحیت رکھتا ہے چونکہ اس میں البومین اور سوڈیم کلورائیڈ کی موجودگی بہت معمولی ہوتی ہے، اس لئے گردوں پرانگور کے استعمال کا بُرا اثر نہیں پڑتا۔
گردوں کی سوزش اورمثانے اور گردے میں پتھریوں کے خاتمے کے لئے انگوربہترین غذائی علاج ہے۔
بچوں کے امراض: انگورکا رس خون بنانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
یہ بچوں میں قبض کی وجہ سے اینٹھن اورمروڑ کے علاج میں بھی کارگر ہے۔
شیرخوار بچے جب دانت نکال رہے ہوں تو انگور کا جوس بہت مفید اورمؤثر رہتا ہے۔
پایوریا (مسوڑھوں کی سوزش): انگوروں کا نامیاتی تیزاب تیز اور مؤثر قسم کا جراثیم کش مادہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر دانت ہل رہا ہو اورمسوڑھوں سے پیپ آرہی ہو تو بھی فکرمند ہونے کی ضرورتنہیں۔ چند دن تک انگوروں پر مشتمل اکلوتی غذا کا استعمال یہ کرشمہ دکھاتا ہے کہ دانت مضبوطی سے اپنی جگہ جم جاتے ہیں، مسوڑھوں کی سوزش ختم اورپیپ خشک ہوجاتی ہے۔
احتیاط
انگورخریدتے ہوئے خیال رکھیئے کہ یہ کچے نہ ہوں بلکہ اچھی طرح پکے ہوئے اور شیریں ہوں۔
LEAVE A COMMENT