خودکشی کی وجوہات اور بچاؤ آج کل زیادہ تر بے روزگار افراد خودکشی کرتے ہیں

Back to Blog
خودکشی کی وجوہات اور بچاؤ پاکستان میں انفرادی مایوسی اور اجتماعی بے بسی بڑھ رہی ہے

خودکشی کی وجوہات اور بچاؤ آج کل زیادہ تر بے روزگار افراد خودکشی کرتے ہیں

خودکشی کی وجوہات اور بچاؤ

 آج کل زیادہ تر بے روزگار افراد خودکشی کرتے ہیں 

انور کاظمی سربراہ ایدھی انفارمیشن بیورو

 خودکشی کرلینے یا ایسا کرنے کی کوشش کرنے والے جن افراد کو یا ان کی لاش کو ایدھی فاؤنڈیشنز کی ایمبولینس کے ذریعے گھر سے ہسپتال یا ہسپتال سے گھر پہنچایا جاتا ہے ان میں سے آج کل زیادہ تر بے روزگار افراد ہوتے ہیں۔

 خودکشی کی کامیاب یا ناکام کوشش کرنے والی زیادہ تر خواتین کا شوہر سے جھگڑا ہوا ہوتا ہے۔

 عموماً جھگڑے کی وجہ مالی مسائل ہوتے ہیں اور ان معاملات میں قصور اکثر شوہروں کا ہوتا ہے۔

 اس کے علاوہ خطرناک امراض مثلاً سرطان یا گردے ناکارہ ہوجانے کے مرض میں مبتلا افراد طویل علاج یا اس کے علاج کے لئے رقم نہ ہونے سے مایوس ہوکر خودکشی کرلیتے ہیں۔

تیسرے نمبر پر پسند کی شادی نہ ہونے پر خودکشی کرلینے والے نوجوان لڑکے یا لڑکیاں ہوتی ہیں۔ لیکن کچھ عرصے سے پسند کی شادی نہ ہونے پر خودکشی کے رحجان میں کمی واقع ہوئی ہے۔

 ہمارے اندازے کے مطابق خودکشی کے محض 30 فیصد کیسز پولیس کے علم میں آتے ہیں باقی کیسز کو گھر والے چھپا لیتے ہیں۔ لیکن گھروالوں، محلے داروں یا ہسپتال کے عملے کی گفتگو سے ہمارے لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ کیس خودکشی کا ہے۔

ملک کے خراب اقتصادی حالات کی وجہ سے بہت سے لوگوں میں جینے کی امنگ کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ جب انکی بے بسی حد سے بڑھ جاتی ہے تو وہ خودکشی کرلیتے ہیں۔

لیکن یہ مرحلہ ایک دن میں یا ایک مسئلے کی وجہ سے فوراً طے نہیں ہوجاتا ہے۔ اس کے پس منظر میں طویل عرصے کی مایوسیاں اور محرومیاں ہوتی ہیں۔ ہمارا سیاسی اور سماجی نظام تباہی کا شکار ہوچکا ہے۔ امیروں میں بھی خودکشی کا رحجان پایا جاتا ہے۔

زندگی کی یکسانیت اور پیسہ ہونے کے باوجود اس کی روح کو تسکین دینے والا مصرف نظر نہ آنے کی وجہ سے دولت مند افراد خودکشی کرلیتے ہیں۔ 2006ء میں پی ای سی ایچ سوسائٹی میں تقریباً پچاس برس کے ایک شخص نے خودکشی کی تھی۔

اس نے جو خط چھوڑا تھا، اس میں لکھا تھا کہ بیوی اسے چھوڑ کر جاچکی ہے۔ بچے بیرون ملک مقیم ہیں اور اسے پوچھتے نہیں ہیں، پیسہ بہت ہے لیکن زندگی میں کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے لہذا وہ خودکشی کررہا ہے۔ وہ شخص کچھ بیمار بھی تھا۔

 یہ بھی بے بسی کی کیفیت ہوتی ہے۔ ایدھی انفارمیشن بیورو کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2009ء میں خودکشی کے نتیجے میں صرف کراچی میں 50 افراد کی اموات ہوئی تھیں اور 14 افراد کو بچالیا گیا تھا۔

یہ اعداد و شمار پولیس اور ذرائع ابلاغ کے علم میں آنے والے کیسز کے علاوہ ہیں۔




یہ مضمون احساس انفورمییٹکس (پاکستان)۔
کی کتاب ،،خودکشی کی وجوہات اور بچاؤ،،سے منتخب کیا ہے
مدیر: ڈاکٹر امین بیگ
نظرَثانی: ڈاکٹر باقر رضا
مزید آگاہی کے لیےؑ ویب پر کتاب کا مطالعہ کیجےؑ

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Blog