Back to Blog

آئیوڈین (Iodine)

آئیوڈین (Iodine)

 آئیوڈین گوئٹریا تھائیرائیڈ غدود (Thyroid Gland) کے مرض سے بچاتی ہے۔
 ہر ملک میں ایسی علامتیں پائی جاتی ہیں جہاں کی مٹی اور پانی میں آئیوڈین کی کمی پائی جاتی ہے۔

دنییا میں صرف جاپان وہ واحد ملک ہے جہاں گوئٹر (Goiter)

بیماری نہیں ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں بہت زیادہ سمندری غذائیں استعمال کی جاتی ہیں۔
 تھائیرائیڈ غدود ایک بنیادی ہارمون تھائیروکسن (Thyroxine)

پیدا کرتی ہے جس کے لئے آئیوڈین نہایت ضروری ہے۔

بند گوبھی، پھول گوبھی اورمولی کا زیادہ استعمال آئیوڈین کی کمی کا سبب بنتی ہے۔
 ان غداﺅں میں ایک مخصوص مادہ ہوتا ہے جو آئیوڈین کی ضد ہے اورغداﺅں میں موجود آئیوڈین کو جذب نہیںہونے دیتا۔

غذائی آئیوڈین معدے اورآنتوں سے جذب ہوتی ہے۔

بالغ افراد میں اندازاً 25 ملی گرام آئیوڈین ہوتی ہے

جو زیادہ تر تھائیرائیڈ غدود میں جذب ہوتی ہے اس غدود میں یہ تھائیروگلوبولین (Thyro Globulin)

کی شکل میں موجود ہوتی ہے۔

30

فیصد کے قریب یہ معدنی جز تھائیرائیڈ غدود سے خارج ہوکر تھائی راکسن بناتا ہے اوربقیہ مقدار گردوں کے ذریعے خارج ہوجاتی ہے۔

ذرائع

 آئیوڈین کا سب سے بہتر ذریعہ آئیوڈین ملا نمک ہے۔
 آئیوڈین ملے نمک کے ایک سوگرام میں اس کی مقدار 7600 مائیکروگرام ہوتی ہے۔
 سمندری غذائیں اورپالک میں بھی آئیوڈین معقول مقدار میں ہوتی ہے۔
روزانہ ضرورت
مرد ۔ 150 مائیکروگرام
خواتین ۔ 150 مائیکروگرام
بچے ۔ 80-85 مائیکروگرام

فوائد:

 تھائیرائیڈ غدود سے خارج ہونے والا ہارمون تھائیراکسن، آئیوڈین پر مشتمل ہوتا ہے۔
 تھائیراکسن جسم میں غذا کو جسم میں جزو بدن بنانے والے نظام اور ٹشوز میں آکسیجن کے استعمال کو کنٹرول کرتا ہے۔
 یہ مختلف شکر کے استعمال کو بھی کنٹرول کرتا ہے اور توانائی کی پیداوار کوبھی باقاعدہ بناتا ہے۔
 جسمانی وزن اور نشوونما کا اس پر انحصار ہوتا ہے۔
 دل کی دھڑکن کو تیز کرتا ہے۔
 پیشاب کے اخراج کو تیز کرتا ہے۔
 ذہنی استعداد کو بہتر کرتا ہے۔
 بال، ناخن، جلد اوردانت کو صحت مند رکھتا ہے۔

کمی کی علامتیں اوربیماریاں

 پروٹیولائیٹک (Proteolytic) انزائم دوران ہضم پروٹین کو توڑتے ہیں، یہ تھائیراکسن کو بھی منتشر کردیتے ہیں جس کی وجہ سے تھائی راکسن اورٹرائی آئیوڈو تھائیرانین (Trefodo Thyranin)

کی کچھ مقدار بھی خون میں شامل ہوجاتی ہے۔
 جب خون میں تھائیرائیڈ ہارمون کی مقدار کم ہوجاتی ہے تو پیچوٹری غدود (Pitutary Gland)

ایک ایسا ہارمون خارج کرتا ہے جو تھائیرائیڈ غدود کو زیادہ فعال کردیتا ہے

جس کی وجہ سے اس میں زیادہ خلیئے بننے لگتے ہیں اور یہ زیادہ ہارمون خارج کرنے کے قابل بننے کے لئے اپنا حجم بڑھالیتا ہے۔

جسے (Goiter)

کہتے ہیں۔
 بالغوں میں آئیوڈین کی کمی کی وجہ سے تھائیرائیڈ ہارمون کی پیداوار مناسب نہیں رہتی۔

جس کی وجہ سے غذاﺅں کا جزو بدن بننے کا عمل سست ہوجاتا ہے۔

جلد موٹی ہوجاتی ہے، بال جھڑنے لگتے ہیں، ذہنی و جسمانی سستی وغیرہ ہوجاتی ہے۔
 غذاﺅں میںآئیوڈین کی کمی سے انیمیا، تھکاوٹ، سستی، جنسی عمل میں دلچسپی نہ رہنا، سست نبض، کم بلڈ پریشر اورموٹاپے کا رجحان ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
 آئیوڈین کی شدید کمی سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور دل کی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔
 اس کی کمی کی وجہ سے بچوں میں ذہانت کی کمی ہوجاتی ہے۔

ایسے بچے ذہنی طورپر پسماندہ ہوتے ہیں یا ان کی گفتگو بے ربط ہوتی ہے۔

ان کی چال میں لڑکھڑاہٹ ہوتی ہے، جلد کھردری اوربال بھورے ہوتے ہیں۔

ایسے بچوں کے ناخن ٹیڑھے اوردانت بدوضع ہوتے ہیں، یہ بچے عموماً انیمیا میں مبتلا رہتے ہیں۔

نوٹ:l

آئیوڈین زندگی کے لئے اتنی اہم ہے کہ اس کے محض ساڑھے تین گرین (Grain)

ذہانت اورحماقت کے درمیان تفریق پیدا کرتے ہیں۔
 تھائیرائیڈ غدود صرف نامیاتی آئیوڈین جو منہ کے ذریعے حاصل کی گئی ہو اس سے تھائی راکسن ہارمون بناسکتا ہے۔
 قدرتی آئیوڈین کے منفی اثرات بالکل نہیں ہوتے لیکن دوا کے طور پر لی جانے والی آئیوڈین اگر غلط طور پر تجویز کی گئی ہو تو نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
کیلشیم، فاسفورس، لوہا اورآئیوڈین کے علاوہ ہمارے جسم کو سوڈیم، کلورین، تانبا، میگنیز کوہالٹ، مولوبیڈنیم، ایلومینیم، فلورین، وینڈیم وغیرہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے

مگر ان کی بہت قلیل مقدار بھی جسم کوصحت مند رکھنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔

اس ہی لئے اسے نادر عناصر (Pare Elements)

کہا جاتا ہے

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Blog