معدنی اجزاء(Mineral Nutrients)

Back to Posts

معدنی اجزاء(Mineral Nutrients)

معدنی اجزاء(Mineral Nutrients)

یہ غیر نامیاتی مادہ ہیں جن کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

 ایسے معدنی اجزاءجن کی جسم کو ایک سو گرام سے زیادہ مقدار سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بڑے معدنی اجزاءکہلاتے ہیں۔
ان میں فاسفورس، کیلشیم، پوٹاشیم، سوڈیم، کلورین، میگنزیم اور سلفر ہیں۔

ایسے معدنی اجزاءجن کو جسم کو ایک سو گرام سے کم مقدار کی ضرورت ہو، انہیں چھوٹے معدنی اجزاءکہا جاتا ہے۔
ان میں بورون، کرومیم، کوبالٹ، فلورین، آئیوڈین، آئرن، سلینیم، سلیکون، ویناڈیم اورزنک شامل ہیں۔

 یورے اینی ٹشو میں معدنی اجزاءجذب کرلیتے ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ پھل، سبزیاں، اناج، پھلیاں، مغز اور بیج معدنی اجزاءکے انتہائی اعلیٰ ذرائع ہوتے ہیں۔

معدنی اجزاءجس طرح زمین میں اپنی قدرتی حالت میں پائے جاتے ہیں

یہ غیرنامیاتی یا بے جان ہوتے ہیں جبکہ پودوں میں بہت سے معدنی اجزاءنامیاتی مالیکیول رکھتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں معدنی اجزاءبہتر انداز میں جذب ہوتے ہیں۔

سبز پتوں والی ترکاریاں بہت سے معدنی اجزاءکا بہترین ذریعہ ہیں۔
l معدنی اجزاءاچھی صحت کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں، یہ بھی جسم کی تعمیر کرنے والے خلیوں کی تشکیل اورنشوونما کرتے ہیں۔

جسم کے خلیئے ضروری غذائی اجزاءخون کے بہاﺅ سے حاصل کرتے ہیں۔

معدنی اجزاءکے کا

 

معدنی اجزاءجسم میں زندگی کے تسلسل کے لئے ضروری پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ خلیوں میں کیمیائی مادوں کو پہنچانے اورخارج کرنے کے عمل کو بھی باقاعدہ بناتے ہیں۔

یہ خون اورٹشو میں موجود مائع کو اضافی تیزابیت یا الکلی سے بھی بچاتے ہیں۔

جسم میں موجود ہزاروں انزائم جو توانائی اورنشوونما ممکن بناتے ہیں ان کا انحصار وٹامنز یا معدنی اجزاءپر ہوتا ہے۔
ضروری معدنی غذائی اجزاءمیں سے ہر ایک اپنا مخصوص کردار ادا کرتا ہے

جبکہ کچھ معدنی اجزاءآپس میں مل کر جسم کے خلیوں کو صحت مند رکھنے کے لئے اضافی کام بھی کرتے ہیں۔
 انسانی جسم وٹامنز کی کمی تو کچھ عرصہ برداشت کرسکتا ہے لیکن خون میں اہم معدنی اجزاءکے توازن کی تبدیلی برداشت نہیں کرسکتا اورجلد ہی زندگی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

ان کی مطلوبہ مقدار بہت معمولی ہوسکتی ہے

لیکن ان کی کمی جسم میں کسی بھی سطح پر اس کی ناقص کارکردگی کا سبب بن جاتی ہے۔

 معمولی نطرآنے والی کمی تھکاوٹ، چڑچڑاپن، یادداشت کی کمی، بدحواسی، دباﺅ،

اعصاب زندگی اورکمزوری کی صورت میں بھی اپنا اظہار کردیتی ہے۔

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Posts