Back to Blog

کرومیم (Chromium)

کرومیم (Chromium)

 اس کی انتہائی معمولی مقدار سب ہی نامیاتی مادوں میں پائی جاتی ہے، چنانچہ یہ ایک ضروری معدنی جز سمجھا جاتا ہے،
اس کی مقدار بچوںاور خصوصی طور پر شیرخواربچوںمیں بالغ افراد کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے۔
 بالغ افراد کے جسم کرومیم کی 5سے 10 ملی گرام تک مقدار پائی جاتی ہے۔
 دنیا کے مختلف علاقوں میں انسانی ٹشوز میں کرومیم کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔
انسان کی عمر جوں جوں بڑھتی ہے اس کے بدن میں کرومیم کی مقدار انسانی ٹشوز میں کم ہوتی جاتی ہے۔
کرومیم کی مقدار کا انسانی جسم میں موجود ہنے کا تعلق غذائی، عادتوں اور وہاں میسر ہونے والے پانی پر ہوتا ہے۔
 جسم میں پہنچنے والا یہ معدنی عنصر زیادہ ترجذب نہیں ہوتا ہے اور پیشاب کے ذریعے خارج ہوجاتا ہے۔

ذرائع

 اس کے بڑے بڑے غذائی ذرائع میں پان کے پتے، چھالیہ اوراخروٹ ہیں۔
روزانہ ضرورت
مرد ۔ 50سے 200 مائیکروگرام
خواتین ۔ 50سے 200 مائیکروگرامے ۔ 50سے 200 مائیکروگرام
شیرخوار بچے ۔ 10سے 60 مائیکروگرام

فوائد:

 یہ چکنائی اورکاربوہائیڈریٹس کو جسم کا حصہ بنانے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
 یہ شوگر کے کیمیائی عمل میں انسولین کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، ایسا لگتا ہے
کہ انسولین کو کارکردگی کوبہتربناتا ہے
جس کی وجہ سے خلیوں میں گلوکوز کا پہنچانا آسان ہوجاتا ہے اورخون میں شوگر کا لیول بڑھنے نہیں پاتا ہے۔
 غذا کو جسم کا حصہ بنانے کے لئے یہ ضرورت کے مطابق پروٹین لیتا ہے۔
 یہ جسمانی نشوونما میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

کمی کی علامتیں اوربیماریاں

 کرومیم کی کمی سے بدن میں گلوکوز پر قابو نہیں رہتا اور شوگر کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔
 شریانوں کے سخت ہونے میں بھی اس کی کمی کا شائبہ پایا جاتا ہے۔
 کچھ علاقوں میں پروٹین کی غذاﺅں میں کمی کا سبب گرومیم کی کمی ہوتا ہے۔

احتیاط

 کرومیم کا زیادہ استعمال ایگزیما اورپھیپھڑوں کی کمی کا سبب ہوسکتا ہے۔

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Blog