فلورین Florine

Back to Posts

فلورین Florine

فلورین (Florine)

 فلورین دانتوں کو صحت مند رکھتی ہے۔

اس کی روزانہ کی ضرورت عام طورپر پینے والے پانی کے ذریعے پوری ہوجاتی ہے۔
 کیلشیم اور فلورین کا آپس میں گہرا تعلق ہے یہ دونوں عناصر مل کر کام کرتے ہیں اورخاصطورپر ہڈیوں کے بیرونی حصے پر مربوط کارکردگی کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔

یہ دانتوں کے اینمل (چمکدار سطح) اورہڈیوں کی لچکدار سطح پرپائے جاتے ہیں۔

 جسم میں دیگر مرکبات یعنی فلورائیڈز (Fluroides)

میں پائی جاتی ہے۔

 ہضم ہونے والا فلورائیڈ پوری طرح آئیونائزڈ (Ionized)

ہوتا ہے اورتیزی سے جذب ہونے کے بعد خلوی مادے کے سیال میں اس طرح پھیل جاتے ہیں

جس طرح کلورائیڈ پھیل جاتا ہے۔

ان کی مقدار خون اور ٹشوز میں اتنی کم ہوتی ہے کہ ان کا قابل اعتماد تجربہ کرنا ناممکن ہے۔

یہ پیشاب میں خارج ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ شدید قسم کے گردے کے مرض میں بھی اس کا اخراج جاری رہتا ہے۔
 فلورین کا پیشاب کے ذریعے خارج ہونا اور غذاﺅں کے ذریعے اس کا روزانہ کا حصول کا آپس میں تعلق پیچیدہ معاملہ ہے

کیونکہ اس کا اخراج ہڈیوں سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ذرائع

 فلورین کی زیادہ مقدار سفید چنے میں ہوتی ہے۔

یہ چاول میں بھی پایا جاتا ہے۔
 سبزیوں میں سبز ترکاریوں میں ہوتا ہے۔
 چائے کی خشک پتیوں میں بھی ہوتی ہے۔
کمی کی علامتیں اوربیماریاں
 جن علاقوں میں مہیا کئے جانے والے پانی میں اس کی مقدار 0.5ppm (

پارٹس پر ملین) سے کم مقدار ہو ، وہاں پر بچوں کے دانت کے امراض زیادہ ہوتے ہیں۔

اورجن علاقوں میں اس کی مقدار 1سے 2 (ppm) فلورین ہو، وہاں پر دانتوں کے کم امراض ہتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ 1ppm فلورین کی اضافی مقدار دانتوں کے امراض کو انتہائی کم کردیتی ہے۔

احتیاط:

 فلورین کی کثرت بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔

جن ملکوں میں پینے کے پانی میں فلورین کی مقدار زیادہ یعنی 3 سے 5ppm

ہے، وہاں دانتوں میں زہریلے اثرات دیکھنے میں آتے ہیں۔

ان اثرات میں دانتوں کے اینمل کی چمک ختم ہوجاتی ہے اور ان پر سفید دھبے نمودار ہوتے ہیں۔

کچھ افراد میں تو یہ کیفیت اتنی شدید ہوتی ہے کہ دانتوں کی سطح گھسی ہوئی، دیمک زدہ نظر آتی ہے۔
 فلورین کی زیادہ مقدار رکھنے والا پانی زیادہ عرصہ تک استعمال کرنے پر فلورین کا زہریلا پن غالب آجاتا ہے۔
 فلورائیڈ رکھنے والے معدنی اجزاءکو ہاتھ لگانے والے کارکن بھی اس مسئلہ سے دوچار ہوتے ہیں اور ان کی ہڈیاں بدوضع ہوجاتی ہیں۔

خاص طورپر ان کی ریڑھ کی ہڈی، پیٹرو کی ہڈی اور دیگر اعضاءکی ہڈیوں میں کیلشیم کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

کمر میں کُبڑا پن آجاتا ہے اوراگلے مرحلے میں اعصابی خلل پیدا ہوجاتا ہے۔

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Posts