ہائی بلڈ پریشر خاموش خطرہ

Back to Blog
ہائی بلڈ پریشر خاموش خطرہ

ہائی بلڈ پریشر خاموش خطرہ

ہائی بلڈ پریشر……خاموش خطرہ

High Blood Pressure Silent Killer

ہایؑ بلڈ پریشر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اعداد و شمار
ہائی بلڈ پریشر کو ماہرین خاموش خطرہ قرار دیتے ہیں یہ خاموشی سے حملہ آور ہوتا ہے اور عموماً اس وقت اس کا انکشاف ہوتا ہے جب یہ اپنی جڑیں گہری کرچکا ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق تمام بالغ افراد میں سے 20 فیصد ہائی بلڈپریشر کے مریض ہوتے ہیں اور روز بروز اس شرح میں اضافہ ہورہا ہے آج کے دور میں 65 سال سے کم عمر میں ہونے والی اموات کا چالیس فیصد ہائی بلڈ پریشر کے تباہ کن اثرات کانتیجہ ہے۔ اسی طرح امراض قلب کی وجہ سے چالیس فیصد افراد وقت سے پہلے طبعی زندگی سے ریٹائر ہوجاتے ہیں اوریہ امراض قلب بھی زیادہ تر ہائی بلڈپریشر کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آج کل دنیا میں ہر پانچواں فرد ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہے لیکن ان میں سے ایک تہائی مریض اپنے مرض سے آگاہ نہیں۔
حقائق
آج کے دورمیں ہائی بلڈ پریشر ایک عام لیکن انتہائی خطرناک بیماری ہے۔ اس کے بارے میں عالمی سطح پرقطعی اعدادوشمار میسر نہیں ہیں کیونکہ اس مرض میں مبتلا سب ہی افراد کی تشخیص نہیں ہوتی تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں تمام بالغ افراد میں 15 فیصد اور چالیس سال سے زائد عمر کے افراد میں20 سے 25 فیصد ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہوتے ہیں دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہر پانچواں فرد جو کسی بھی وجہ سے ڈاکٹر تک پہنچتا ہے وہ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا پایا جاتا ہے اس خطرناک تعداد کے برابر (کم و بیش برابر) تعداد ایسے افراد کی ہوسکتی ہے جو اس مرض کے اسیر ہیں لیکن مختلف وجوہات کی بناء پر ان کی تشخیص نہیں ہوسکی۔ عالمی سطح پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایسے افراد کی شرح تیس فیصد ہے جن کی تشخیص آخری وقت تک نہیں ہوپاتی کیونکہ وہ خود کوتندرست اور صحت مند سمجھتے ہیں اور اتفاقاً وہ کسی میڈیکل چیک اپ سے نہیں گزرے ہوتے۔ اگر آپ کے لئے یہ اعدادوشمار حیران کن ہیں توآپ بھی اپنے آپ کا موازنہ کیجئے اورڈاکٹر سے رجوع کیجئے، ایسا نہ ہو کہ آپ پر بھی اس بیماری کا انکشاف اس وقت ہو جب صورتحال نقصان دہ ہو۔
ہائی بلڈ پریشر علامتوں کے بغیر ایک ایسی بیماری ہے جو مسلسل کئی برسوں تک آپ کو خطرے کا سگنل دیئے بغیر آپ کے ساتھ ہوتی ہے عموماً اس کی موجودگی کا انکشاف کسی اور وجہ سے ہوتا ہے مثلاًآپ ڈاکٹر کے پاس اپنی کسی اوربیماری یا تکلیف کے لئے جاتے ہیں اورڈاکٹر معائنے کے دوران اس امر سے آگاہ ہوتا ہے کہ آپ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں لیکن بیماری کا معلوم نہ چلنے کا سبب محض مریض کی کوتاہی نہیں ہوتی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بعض اوقات کئی ڈاکٹر حضرات بھی یہ زحمت گوارا نہیں کرتے کہ مریض کی کسی اوربیماری کے علاج کے سلسلے میں اس کا بلڈ پریشر بھی چیک کرلیں۔

اپنی صحت کی برقراری کے لئے ضروری ہے کہ آپ گاہے بگاہے اپنا بلڈ پریشر چیک کرواتے رہیں زیادہ تو نہیں کم از کم چھ ماہ کے بعد ایک دفعہ یہ چیک اپ ضرورہونا چاہئیے اوراگر آپ ڈاکٹر تک پہنچنے کا وقت نہیں نکال سکتے تو اپنا بلڈ پریشر خود چیک کرنے کا انتظام کرلیجئے لیکن اس سے مسلسل بے نیازی اچھی نہیں۔

ہائی بلڈ پریشر کیوں خطرناک ہے؟
l ہائی بلڈ پریشر میں دل کو خون پمپ کرنے کے لئے معمول سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے کیونکہ اسے خون کے دباؤ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مزاحمت کے خلاف اپنا کام زیادہ قوت سے کرنا پڑتا ہے چنانچہ دل کے پٹھے اس وقت طلب عمل کے دوران تھک جاتے ہیں۔ مسلسل بتدریج کمزور ہوجاتے ہیں اور بالآخر کام کرنا چھوڑدیتے ہیں اور یوں حرکت قلب بند ہوجاتی ہے ۔
 اگر دل کے پٹھے زیادہ توانا ہوں تو مسلسل ہائی بلڈ پریشر ایک اورانداز میں اثرانداز ہوتا ہے ہائی بلڈ پریشر میں دل کو خون پہنچانے والی اور دل سے خون وصول کرنے والی اس سے متصل نالیاں (شریانیں) خون کے دباؤ اور مسلسل اور شدید دباؤ کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ اور خستگی کا شکار ہوجاتی ہیں یہ ٹوٹ پھوٹ اور دیگر بُرے اثرات محض شریانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ دماغ گردے اور دیگر اعضائے رئیسہ بھی شدید تر متاثر ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہائی بلڈ پریشر کا علاج نہ کیا جائے تو فالج، ہارٹ فیلیور (حرکت قلب بند ہونا) گردے ناکارہ ہونا اوراسی طرح کے مہلک انجام کے خطرات ہر وقت مریض کو گھیرے رکھتے ہیں۔  اسٹروک یا ہارٹ فیل بظاہر نارمل افراد کو کسی وقت اپنی زد میں لے سکتے ہیں لیکن ہائی بلڈ پریشر کے افراد کو ان کا خطرہ (اگر وہ علاج نہ کرائیں تو) کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کا اندازہ کیسے کیا جائے؟
 ہائی بلڈ پریشر اس لئے خاموش خطرہ ہے کیونکہ اس کی علامتیں دیگر عام بیماریوں کی طرح ایسی نہیں ہوتیں جو مرض کے آغاز میں ہی مریض کو متوجہ کرلیں یا چونکادیں بلکہ اس کے برعکس زیادہ تر مریض اس کی موجودگی کے باوجود خود کو توانا اور تندرست محسوس کرتے ہیں۔
آپ کا بلڈ پریشر نارمل ہے یا ہائی؟ یہ جاننے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ اپنا چیک اپ کرواتے رہیں۔ اپنے بلڈ پریشر کی پڑتال سال میں کم از کم دو مرتبہ ضرور کیا کیجئے۔
والی اس سے متصل نالیاں (شریانیں) خون کے دباؤ اور مسلسل اور شدید دباؤ کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ اور خستگی کا شکار ہوجاتی ہیں یہ ٹوٹ پھوٹ اور دیگر بُرے اثرات محض شریانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ دماغ گردے اور دیگر اعضائے رئیسہ بھی شدید تر متاثر ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہائی بلڈ پریشر کا علاج نہ کیا جائے تو فالج، ہارٹ فیلیور (حرکت قلب بند ہونا) گردے ناکارہ ہونا اوراسی طرح کے مہلک انجام کے خطرات ہر وقت مریض کو گھیرے رکھتے ہیں۔ 
اسٹروک یا ہارٹ فیل بظاہر نارمل افراد کو کسی وقت اپنی زد میں لے سکتے ہیں لیکن ہائی بلڈ پریشر کے افراد کو ان کا خطرہ (اگر وہ علاج نہ کرائیں تو) کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کا اندازہ کیسے کیا جائے؟
 ہائی بلڈ پریشر اس لئے خاموش خطرہ ہے کیونکہ اس کی علامتیں دیگر عام بیماریوں کی طرح ایسی نہیں ہوتیں جو مرض کے آغاز میں ہی مریض کو متوجہ کرلیں یا چونکادیں بلکہ اس کے برعکس زیادہ تر مریض اس کی موجودگی کے باوجود خود کو توانا اور تندرست محسوس کرتے ہیں۔
 آپ کا بلڈ پریشر نارمل ہے یا ہائی؟ یہ جاننے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ اپنا چیک اپ کرواتے رہیں۔ اپنے بلڈ پریشر کی پڑتال سال میں کم از کم دو مرتبہ ضرور کیا کیجئے۔ اس کی تشخیص بروقت ہوجائے تو فوری علاج ممکن ہوتا ہے اورمہلک نتائج سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

خطرناک نتائج سے تحفظ
بلڈ پریشر معمول کے مطابق رکھنے سے دل اور شریانوں پر دباؤ نہیں رہتا چنانچہ ہائی بلڈ پریشر کے مہلک نتائج کو کم ہی نہیں بعض اوقات بالکل ختم کرلیا جاتا ہے مناسب علاج سے ہائی بلڈ پریشر کو نارمل پریشر میں رکھا جاسکتا ہے اور اگر نارمل نہیں تو کم از کم خطرے کی سرحد سے باہر ضروررکھا جاسکتا ہے۔ خطرناک نتائج سے محفوظ رہنے کی ضمانت صرف یہی ہے کہ علاج برقرار رکھا جائے۔
اس مرض کا علاج کسی طرح کے غیر معمولی اقدامات کا تقاضا نہیں کرتا اس کا تقاضا صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ مریض کا باقاعدہ چیک اپ ہوتا رہے کھانے پینے اور رہنے سہنے میں معمولی سا ردوبدل ہو اور تجویز کردہ ادویات روزانہ کھائی جاتی رہیں۔ یہ اقدامات آپ کی روزمرہ زندگی میں کسی طرح بھی تکلیف دہ مزاحمت یا تبدیلی نہیں لاتے اورآپ اپنی معمول کی زندگی سابقہ انداز میں ہی گزارتے رہتے ہیں۔ یقین کیجئے کہ اگر بروقت تشخیص اور علاج ہوجائے تو ہائی بلڈ پریشر آپ کو نارمل اورتعمیری زندگی گزارنے سے کبھی نہیں روکتا۔ البتہ آپ کو تھوڑا سا پُرعزم رہنا پڑے گا اورڈاکٹر اور مریض کا باہمی تعاون برقرار رکھنا پڑے گا۔ اگرآپ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں تو اپنے ڈاکٹر کے بتائے ہوئے علاج پر 
ضرور عمل کیجئے۔ غفلت اور بے نیازی آپ کو اورآپ کے خاندان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتی ہے۔

یہ مضمون احساس انفورمییٹکس پاکستان۔

https://ahsasinfo.com

کی کتاب ،،ہایؑ بلڈ پریشر،،سے منتخب کیا ہے
مدیر: ڈاکٹر امین بیگ
نظرَثانی: ڈاکٹر طارق عزیز۔ایف-سی-پی-ایس میڈیسن
مزید آگاہی کے لیےؑ ویب پر کتاب کا مطالعہ کیجےؑ

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Blog