🚀 Want a superfast website? Hostinger is your launchpad! 🚀

وٹامن بی (6) پائیریڈوکسین(Vitamin B6 – Pyridoxine)

Back to Posts

وٹامن بی (6) پائیریڈوکسین(Vitamin B6 – Pyridoxine)

وٹامن بی (6) پائیریڈوکسین(Vitamin B6 – Pyridoxine)

 یہ پانی اورالکحل میں حل ہوجاتی ہے۔

اس وٹامن کا روزانہ غذا میں موجود ہونا ضروری ہے ۔
 یہ زیادہ عرصے تک اس کا ذخیرہ کرنے، بھوننے یا بھاپ سے پکانے کا عمل، پراسیسنگ کے طریقہ کار، شراب کا استعمال اور ایسٹروجن اس وٹامن کو تباہ کردیتے ہیں۔
 یہ چھوٹی آنت کے درمیانی حصے سے جذب ہوتی ہے۔ بڑی آنت (Colon) سے یہ بہت معمولی مقدار میں جذب ہوتی ہے جبکہ بڑی آنت میں موجود بیکٹریا، وٹامن بی (6) سے ہم آہنگی پیدا کرلیتے ہیں لیکن وہاں اس کا انجذاب قابل ذکر مقدار میں نہیں ہوتا ہے۔
 وٹامن بی (6) کی بہت تھوڑی مقدار جسم میں ذخیرہ ہوتی ہے۔
 یہ گردوں کے ذریعے خارج ہوتی ہے، کچھ مقدار فضلے اور پسینے میں بھی خارج ہوتی ہے۔

ذرائع

 گندم کا دلیہ، سورج مکھی کے بیج، سویابین، مسور، مٹراس کا بہترین ذریعہ ہیں۔ پنیر اوراخروٹ میں بھی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔
 کچے پھل، پکی ہوئی غذاﺅں سے زیادہ مقدار میں یہ وٹامن رکھتے ہیں۔ ہری مرچ، لیموںاور مچھلی میں بھی پائی جاتی ہے۔روزانہ ضرورت
مرد ۔ 2.0 ملی گرام
خواتین ۔ 2.0 ملی گرام
بچے ۔ 1.7 ملی گرام
شیرخوار بچے ۔ 0.1 سے 0.4 ملی گرام

فائدے

 پروٹین اور چکنائی کو ہضم کرنے اور جسم کا حصہ بنانے کے عمل میں مدد کرتی ہے۔
 بہت سے انزائم اور انزائم کے نظام کو متحرک کرتی ہے۔
 ایسے جرثومے پیدا کرنے کے عمل میںمعاونت کرتی ہے جو بیکٹریا سے جنم دینے والی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔
 دماغ اور اعصابی نظام کی صحت مند کارکردگی میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
 یہ تولیدی اورصحت مند عمل کے لئے بہت ضروری ہے۔
 یہ اعصاب اورجلد کی تکلیف سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
 دل کی متعدد بیماریوں سے بچاتی ہے اور کولیسٹرول کی بلند سطح سے محفوظ رکھتی ہے۔
 شوگر کے مرض سے بچاﺅکا باعث ہوتی ہے۔

 یہ وٹامن بی (12) کو جذب ہونے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔

 سوڈیم اورپوٹاشیم کا جسم میں ضروری توازن قائم رکھنے میں مددگار ہوتی ہے جو معمول کی کارکردگی کے لئے بہت ضروری ہے۔
 ہائیڈروکلورک ایسڈ اور میگنیشیم کی پیدائش بڑھاتی ہے۔

کمی کی علامتیںا ور بیماریاں

 خون کی کمی، رطوبت والی سوزش، ایگزیما اورجلد کے امراض کا باعث ہوتی ہے۔
 ہونٹوں کے کونوں کا پھٹ جانا، ناخوشگوار سانس، بڑی آنت کی سوزش، لبلبہ کا متاثر ہونا شامل ہے۔
 دانتوں کا انحطاط کا باعث بھی ہوتی ہے۔
 اعصابی خلل اورنیند کے نہ آنے کا بھی امکانات ہوتے ہیں۔
 پٹھوں پرکنٹرول ختم کرنے کے علاوہ، آدھے سر کا درد (میگرین)، بڑھاپے کے امراض اورقبل ازوقت بڑھاے کا باعث بھی ہوتی ہے۔

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Posts