بلڈ پریشر چیک کرنے کا طریقہ

Back to Blog
بلڈ پریشر چیک کرنے کا طریقہ

بلڈ پریشر چیک کرنے کا طریقہ

 بلڈ پریشر چیک کرنے کا طریقہ

اس کے لئے جو آلہ استعمال ہوتا ہے اسے بلڈ پریشر کا آلہ یا کہا جاتا ہے جو کہ ایک عدد ربڑ کے تھیلے ، ایک ربڑ کے پمپ اور مرکری یا سُوئی والے دباؤ پیما پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک عدد اسٹیتھواسکوپ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ اس طریقے کو ریواروکی طریقہ کہا جاتا ہے۔ ربڑ کا تھیلا یا کف کہنی کے جوڑ کے اوپر بازو پر لپیٹ دیا جاتا ہے اور پھر ربڑ کے پمپ کے ذریعے ہوا بھری جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ہوا کا پریشر اتنا زیادہ ہوجاتا ہے کہ نبض محسوس نہیں ہوتی۔ اب اسٹیتھواسکوپ کو کہنی کے جوڑ کے سامنے والے حصے پر پیٹ کی طرف والے کنارے پر رکھا جاتا ہے۔ اب آہستہ آہستہ ہوا نکالی جاتی ہے۔ ہوا نکالنے سے آپ کو اسٹیتھواسکوپ میں مختلف قسم کی آوازیں سنائی دیں گی۔ جو خون کی نالی کھلنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں یہ آوازیں کوروٹوکوف آوازیں کہلاتی ہیں
ایک مخصوص کف جس کا تعلق پریشر گیج سے ہوتا ہے کہنی کے اوپر بازو پر لپیٹ دی جاتی ہے۔ ربڑ کے ایک بلب سے کف میں ہوا بھری جاتی ہے۔ ایک خاص پوائنٹ تک ہوا بھرنے سے بازو کی مرکزی شریان میں خون کا بہاؤ رک جاتا ہے۔ یہ دباؤپریشر گیج یا مانومیٹر پر پارے کی حرکت سے نظر آجاتا ہے۔ اس بات کا تعین کرنے کے لئے شریان میں خون کا بہاؤ واقعی رک گیا ہے دباؤ کو مزید 10سے 20درجے تک بڑھایا جاتا ہے۔ کف لپیٹنے کے بعد ایک اسٹیتھو اسکوپ کو کلائی کے جوڑ پر رکھ لیا جاتا ہے اس کے ذریعے نبض کی آواز اس وقت سنی جاتی ہے جب دباؤ بڑھانے کے بعد بلب کے ذریعے ہوا بتدریج خارج کی جاتی ہے۔ جونہی ہوا کا دباؤ کم ہوتا ہے بلڈ پریشر کی بالائی سطح (سیٹالک پریشر) جسے پیک پریشر یا چوٹی کا دباؤ کہتے ہیں نبض کی آواز ’’دھک دھک‘‘ پیدا کرتا ہے۔ یہ آواز شریان میں رُکے ہوئے بہاؤ کے رواں ہونے پر دل کی ہر دھڑکن کے ساتھ پیدا ہوتی ہے او راسے اسٹیتھو اسکوپ پر سنا جاتا ہے۔ جونہی ہوا کا دباؤکف میں سے کم ہوجاتا ہے نبض کی آواز اس پوائنٹ پر آکر ختم ہوجاتی ہے جسے بلڈ پریشر کی زیریں سطح یا ڈائسٹالک پریشر کہتے ہیں۔مانو میٹر پر ہوا کے دباؤ سے پارہ ایک خاص درجے تک جاچکا ہوتا ہے، ہوا خارج کرنے پر پارہ نیچے گرنے لگتا ہے تو نبض کی آواز پر پارہ جن ہندسوں پر ہوتا ہے اسے نوٹ کرلیا جاتا ہے اسی طرح جب آواز بند ہوجاتی ہے تو پارہ اس مرحلہ پرجن ہندسوں پر ہوتا ہے نوٹ کرلئے جاتے ہیں۔ یوں پہلے والے ہندسے بلڈ پریشر کی بالائی سطح (سیٹالک پریشر) اور بعد والے ہندسے زیریں سطح (ڈائسٹالک پریشر) کا تعین کرتے ہیں۔
ہونی چاہئیے مہارت تو بار بار چیک کرنے کے عمل سے ہی آتی ہے۔ خود بلڈ پریشر چیک کرنے والوں کومندرجہ ذیل باتو ں کا خیال رکھنا چاہئیے۔
 چیک اپ کا خاص وقت مقرر کرلیں اس کی پابندی کریں۔ جس بازو سے چیک کیا جاتا ہے (دایاںیا بایاں) روزانہ اسی بازو سے چیک کریں جس حالت میں چیک کرتے ہیں بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر، روزانہ اسی حالت میں چیک کرتے رہیں۔

بازو بالکل نارمل حالت میںآزاد ہونا چاہئیے کسی طرح کا کھچاؤ یا دباؤ نہیں ہونا چاہئیے۔ یعنی قمیض وغیرہ کے بازوچڑھا کر کسی طرح کا دباؤ نہ ہونا چاہئیے۔ کہنی کا لیول دل کے برابر ہونا چاہئیے۔

 بلڈ پریشر آپریٹس کا کف بازو پر پوری طرح لپیٹا ہوا ہو اوراسٹیتھو اسکوپ کا بلب کہنی کے درمیان اس مقام پر ہو جہاں خون کی مرکزی شریان ہوتی ہے۔

 بعض افراد کی نبض کی آواز نہ معلوم وجوہات کی بناء پر بالائی دباؤ اورزیریں دباؤ کے درمیان نہیں سنی جاسکتی چنانچہ کف میں ہوا عمومی سیٹالک پریشر سے زیادہ بھری جانی چاہئیے۔

-5 مریض کو اپنے بلڈ پریشر کی روزانہ ریڈنگ لکھ لینی چاہئیے اس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا چاہئیے۔ ریڈنگ کے ساتھ ساتھ جو ادویات استعمال میںآرہی ہیں وہ بھی لکھی جانی چاہئیں۔ اسی طرح روز مرہ کی مصروفیات بھی لکھی جانی چاہئیں۔

 گھر میں استعمال کے لئے خریدا جانے والا بی پی آپریٹس معیاری ہونا چاہئیے اور سال میں ایک دو مرتبہ اس کی پڑتال ضرور ہونی چاہئیے۔

یاد رکھئے گھر میں بلڈ پریشر چیک کرنے کا مطلب گھر پر علاج نہیں۔ داویات میں تبدیلی یا مقدار کا ردوبدل صرف اورصرف ڈاکٹر کے مشورہ سے کریں۔ 

اوپر دی گئی ہدایات اسٹیتھو اسکوپ اورمانومیٹر پر مشتمل بی پی آپریٹس کے بارے میں ہے۔ 

آج کل بازار میں جدید قسم کے آپریٹس دستیاب ہیں جن کا استعمال بہت سادہ اور آسان ہے ان میں اسٹیتھو اسکوپ کی ضرورت نہیں ہوتی کلائی پر آپریٹس کا کف لپیٹ لیا جاتا ہے کف کے اوپر کمپیوٹرائزڈ اسکرین ہوتی ہے جس پر ازخود بلڈ پریشر کے بالائی اورزیریں دباؤ کے ہندسے نمودار ہوجاتے ہیں۔ یہ آپریٹس بہت حساس اور درست نتائج دیتے ہیں ان کے استعمال کے بارے میں ہدایات ساتھ ہی دستیاب ہوتی ہیں۔

یہ مضمون احساس انفورمییٹکس (پاکستان)۔

https://ahsasinfo.com

کی کتاب ،،ہایؑ بلڈ پریشر،،سے منتخب کیا ہے
مدیر: ڈاکٹر امین بیگ
نظرَثانی: ڈاکٹر طارق عزیز۔ایف-سی-پی-ایس(میڈیسن)
مزید آگاہی کے لیےؑ ویب پر کتاب کا مطالعہ کیجےؑ

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Blog