خاندان کشی 

Back to Posts
خاندان کشی

خاندان کشی 


(ڈاکٹر باقر رضا) ’’بے بس آدمی لکھتا نہیں ہے، خودکشی کرتا ہے‘‘ جارج مونرو گران ’’ہم آپ کو لائیو (Live) ٹی وی پر لینا چاہتے ہیں۔ آپ ہمیں یہ جو لاہور میں ایک نرس نے اپنے بچوں کو مار کر خودکشی کرلی ہے۔


 اس کے بارے میں نفسیاتی رائے دیدیں۔‘‘ فون پر بہت عجلت میں یہ کہا گیا۔ یہ شام کا وقت تھا اور مختصر سے تعارف کے بعد ایک نجی چینل کے خبروں کے محکمے سے کوئی صاحب بہت جلدی میں مجھ سے میری رائے پوچھنا چاہ رہے تھے۔

میں نے کہا ’’صاحب پہلے یہ تو سن لیں کہ میں کیا کہوں گا پھر مجھ سے بات کیجئے گا‘‘ وہ بولے اب سننے سنانے کا وقت نہیں ہے آپ فوراً بولنا شروع کردیں 
ہمارا نیوز ریڈر کیو (خبریں پڑھنے والا اشارہ) دے چکا ہے…. ون…. ٹو…. تھری…. خیر میں نے جو کہا وہ کہا اور نیوز ریڈر نے جو پوچھا وہ پوچھا، بات آئی گئی ہوگئی پھر دوسرے تیسرے دن ان ہی کا فون آیا کہ وہ خاندان کشی کے موضوع پر ایک مذاکرہ کرنے جارہے ہیں اور انہوں نے مجھے اس مذاکرے میں شرکت کی دعوت دی۔

 اسی دوران کوئی سیاسی بحران، ملک میں آگیا اور وہ مذاکرے کی دعوت اور مذاکرہ سب غارت ہوگئے۔

تمام چینل اس خاندان کشی کے موضوع کو چھوڑ کر نئے سیاسی بحران کی دعوت اڑانے لگے۔ خاندان کشی ایک نہایت حساس موضوع ہے۔

 کوئی شخص کیوں اپنے خاندان کو اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے؟ اس کا جواب کیا ہوسکتا ہے؟ پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ اس سوال کا کوئی ایک سیدھا سادا جواب ممکن نہیں ہے۔

اس مشکل سوال کا جواب اس موضوع کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر دیا جائے گا۔ یا یوں جانیے کہ اس کے جواب تک پہنچنے کے لئے محنت درکار ہوگی۔ 

ہمارے معاشرے میں جہاں اس قسم کے سوالات بے شمار ہیں وہاں بدقسمتی سے ایسے سوالات کے آسان ترین جوابات دینے والے بھی ان گنت ہیں جو انتہائی وثوق سے غلط جوابات دیتے ہیں اور اپنے جوابات کی جہالت سے خود بھی مطمئن رہتے ہیں اور سننے والوں کو بھی اطمینان سے رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔

اخبارات کے کالم کم ہیں اور کالم نویس زیادہ ہیں۔ ہر کالم نویس ہر مسئلے کا حتمی یہ سانحہ ہے کہ عالم ہیں بے شمار یہاں سوال پوچھنے والا نہیں ہے محفل میں! اور اگر جواب نہیں جاننا چاہتے ہیں تو پھر استخارہ دکھوالیجئے۔

 اس کا بھی آسان بندوبست ہوگیا ہے۔

گھر بیٹھے فون کریں اور ٹی وی سے استخارہ معلوم کرلیں۔ علم کی بے توقیری، جہالت کی ارزانی، دین کا سیاسی اور گروہی مفادات حاصل کرنے کے لئے جا و بے جا استعمال اور تحمل کی کمی ہمارے اجتماعی معاشرتی مزاج کی علامت بن گئے ہیں۔

جہل خرد نے دن یہ دکھائے گھٹ گئے انسان بڑھ گئے سائے خاندان کشی یا اولاد کشی کی کئی صورتیں ہیں۔

 افلاس کے خوف سے اولاد کا قتل سب سے پہلے اسلام نے منع کیا تھا۔ اس سے کم از کم یہ ثابت ہوتا ہے کہ چودہ سو برس قبل بھی لوگ افلاس کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل کردیتے تھے۔

 بھلا ہو ہمارے دانشوروں کی اتھلی نظر کا کہ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کو ہی افلاس سے خودکشی کے قتل کے مماثل ٹھہرایا۔ یعنی یہ کہ برائی کی وجہ ختم نہ کی جو اس جگہ افلاس تھا بلکہ برے کو مارنے پر تل گئے۔

افلاس چودہ سو سال قبل بھی اور آج بھی ایک شدید خوفناک مسئلہ ہے۔ بابا بُلّھے شاہؒ کہتے ہیں کہ سب سے بڑا رکن اسلام کا روٹی ہے اور اگر روٹی نہ ہو تو پھر سارے ارکان معطل ہوجاتے ہیں۔

 اسلام نے افلاس کو ختم کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ معاملہ بچوں کی تعداد کم یا زیادہ ہونے کا نہ تھا۔

 افلاس اگر نہیں ہے تو آپ ٹبر کا ٹبر پالیں کوئی ممانعت نہیں ہے اور افلاس ہے تو پہلے افلاس کو دور کرنے کا سوچیں اس کے بعد دیگر چیزوں کی طرف توجہ دیں۔ 

یہ جو غریب گھرانوں میں کم عمر بچیاں پیسے کے لالچ میں عرب شیوخ کو بیاہ دی جاتی ہیں تو یہ بھی اولاد کشی کی ایک قسم ہے۔

یہ جو اونٹوں کی دوڑ میں غریب گھرانے اپنے بچے جھونک دیتے ہیں تو یہ بھی افلاس کی وجہ سے ہے اور یہ بھی اولاد کشی کی ایک قسم ہے اور یہ جو قرآن سے بچی کی شادی کردی جاتی ہے تو یہ بھی اولاد کشی کا ایک طریقہ ہے۔

 اور یہ جو کاروکاری میں عورتوں اور بچیوں کو جھوٹی عزت کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے تو یہ بھی اولاد کشی ہی کا ایک انداز ہے۔

اولاد کشی کے لئے انگریزی میں Filicide کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کے معنی ہیں ماں باپ کا اپنی اولاد کو قتل کردینا۔

امریکہ کے اعداد و شمار کے مطابق ماؤں میں آٹھ برس سے کم عمرکی اولاد کو قتل کردینے کا رحجان زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ باپ آٹھ برس سے بڑے بچوں کو زیادہ قتل کرتے ہیں۔

باون فیصد مقتول لڑکے اپنی ماؤں کے ہاتھ قتل ہوئے اور ستاون فیصد مقتول لڑکے اپنے باپ کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان اعداد و شمار سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا از حد مشکل ہے۔

 بچے اپنے ماں باپ ہی کا نسلی تسلسل ہوتے ہیں۔ اولاد کشی ایک حدتک تو عام قتل و غارت گری سے ایک الگ چیز ہے۔ اولاد کشی، خودکشی سے نسبتاً زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے۔

 کیونکہ اپنے ہی تسلسل، یا اپنی ہی نسل کا خاتمہ، خودکشی ہی کی ایک صورت ہوتی ہے۔

نفسیات کے باوا آدم فرائیڈ نے Mourning & Melancholia یعنی ’’سوگواری اور یاسیت‘‘ نامی مقالے میں خوکشی کو تشددکی ایک قسم قرار دیا ہے۔

 جس میں تشدد کا رخ انسان کی اپنی ذات کی طرف ہوجاتا ہے۔ میننگرز Meningers نے اپنی کتاب Man against Himself ’’انسان خود اپنے مقابل میں‘‘ خودکشی کو قتل معکوس یعنی اپنا قتل اس صورت میں جبکہ قتل کا ہدف اصل میں کوئی اور ہو مگر دسترس میں نہ ہو تو پھر قاتل خود اپنے آپ کو ہلاک کردے، قرار دیا ہے۔

 مثال کے طور پر خودکشی کرنے والا اپنے تمام معاشرے کو، اپنی تمام نسل کو، اس دنیا اور اس کائنات کو برباد کرنا چاہتا ہے مگر یہ اس کے بس سے باہر ہے لہٰذا وہ خود اپنے آپ کو ختم کردیتا ہے۔

اب تک سب سے اہم رائے اس ضمن میں مشہور ماہر معاشرت ڈر کخن ہائمر Darhknen Heimer 
کی ہے۔ اس کے مطابق خودکشی کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔

 پہلی قسم Altruistic ہے یعنی ایسی خودکشی جس میں مرنے والا اپنی سمجھ کے مطابق کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جان دے رہا ہو۔ یاد رہے کہ یہ عظیم مقصد مرنے والے کےلئے ہوتا ہے۔ باقی افراد کے لئے یہ مقصد (جو جان دینے سے حاصل ہونے کی امید ہوتی ہے) اتنا اہم نہیں ہوتا ہے۔

جاپانی ہارا کاری، قلعہ الموت کے حشیشیں اور عہد جدید کے خودکش حملہ آور اسی زمرے میں آتے ہیں۔

دوسری قسم ہے Egotistic یعنی ایسی خودکشی جس میں مرنے والے نے یوں جان دی ہوتی ہے کہ کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتا ہے کہ جس کے بعد وہ زندہ رہنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ہے۔

 ہٹلر کی خودکشی، ہیمنگوئے کی خودکشی اسی قسم کی خودکشی تھی۔ تیسری قسم ہے Anomic۔ یہ خودکشی اس وقت ہوتی ہے جبکہ معاشرہ مجموعی طور پر بدحالی کا شکار ہوتا ہے۔

 قدروں پر سے اعتبار ختم ہورہا ہوتا ہے۔معاشرے کے تار و پو بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ رہنما بے عمل اور بے اعتبار ہوتے ہیں۔

 منزل معلوم نہیں ہوتی ہے۔ راہ کے نشان گرد سے چھپ جاتے ہیں اور عوام بھٹک رہے ہوتے ہیں۔ چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہ رو کے ساتھ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں معاشرتی اعتبار سے ہمارا آج کا معاشرہ اس تعریف پر پورا اترتا ہے۔
موجودہ عہد میں نفسیات دانوں نے کچھ اور نظریے بھی وضع کئے ہیں ان کی رو سے پہلا خودکشی کی خالی منظر کشی، یا ذہن میں خودکشی کا ایک اعلیٰ وارفع خیال پیدا کرلینا ہے۔

 جیسا کہ اردو شاعری میں جون ایلیاؔ کے ہاں ملتا ہے یا جدید بیگانگی کے فلسفے سے متاثر قلم کاروں مثلاً صادق ہدایت ،کامو اور سارترے کے ہاں ملتاہے۔ دوسرا کسی ایسی شے کا کھوجانا جو از حد عزیز ہو اور اس کے بعد زندہ رہنا ممکن نہ ہو۔

 اور تیسرا خود پسندی کی انتہا اور اسی بناء پر خود پسندی کو پہنچنے والی تکالیف، چوتھا بے سمت اور بے جہت غصہ اور شدید احساس محرومی بھی خودکشی کو راہ دیتا ہے۔

 پانچواں کسی خودکشی کرکے مرنے والے کو عظیم اور قابل تقلید قرار دے دینا۔ چھٹا گروہی مقاصد، گروہی غالب سوچ یعنی کسی ایسے گروہ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا جس میں اپنی جان دے دینے کو حتمی عمل سمجھا جانے لگا ہو۔

مثلاً امریکہ کے اجتماعی خودکشی کرنے والے کلٹس (Cults) اور پاکستان کے انتہا پسند گروہ۔
 ساتواں نظریہ جو جدید ترین ہے وہ مشہور ماہر نفسیات ایران بیک
 کا وضع کردہ ہے۔ اس کے مطابق تمام خودکشیوں کا اصل محرک شدید ترین ناامیدی ہوتی ہے۔

 چاہے مرنے والا بظاہر کتنی ہی اعلیٰ و ارفع بات کرے مگر مرنے میں ناامیدی کا عنصر سب سے غالب رہتا ہے۔

 یہ ناامیدی ہی ہے جو اتنے شدید اقدام پر اکساتی ہے۔ ہماری زبان میں ایک محاورہ ہے کہ ’’مایوسی کفر ہے‘‘ اور یہ بات کتنی سچ ہے۔ لاہور میں جس نرس نے اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں موت کی گھاٹ اتارا تو یہ بھی اسی شدید مایوسی کا شاخسانہ ہے۔

معاشی ناہمواریاں، طبقاتی اونچ نیچ، بے روزگاری، روحانی بے چینی، مذہبی مایوسی، اخلاقی زبوں حالی، کمزور کا استحصال، طاقتور کا تمام قوانین سے بالاتر ہونا اور دور دور تک کسی امید کی کرن کا نظر نہ آنا یہ ان تمام واقعات کے معاشرتی عوامل ہیں۔

جس ماں نے قتل کیا وہ قاتل تو ہے مگر اس کی حیثیت اس قتل میں آلہ قتل سے زیادہ کی نہیں ہے۔ قتل ہمارے معاشرے نے کیا، ہمارے سماج کی جہالت نے کیا۔ ہماری شکستہ اقدار نے کیا ہمارے تیزی سے انتہا پسندی کی طرف بڑھتے ہوئے مذہبی رحجانات نے کیا۔

 ہمارے اندر دن بدن پنپتی ہوئی بے گانگی نے کیا۔ ہماری سیاسی ہوسِ اقتدار نے کیا۔ ہماری تشدد پسند سوچ نے کیا۔

 ہماری اس طبیعت نے کیا جو مسلسل ہزیمت اٹھانے کے باوجود نئے تقاضوں کو سمجھنے سے انکار کرتی ہے۔ بقول مشہور پاکستانی ماہر نفسیات پروفیسر ہارون احمد کے خودکشی کا عمل تو ایک طرح کا احتجاج ہے۔

ایک توجہ دلانے کی کوشش ہے کہ دیکھو اے لوگو یہ میں نے خود اپنے ساتھ کیا کیا ہے۔ مجھے تسلیم کرو، دیکھو میں بھی تم ہی میں سے ہوں۔ میرے ہاتھ میرے ہی بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

 یہ جو ہم ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ مذہبی مقامات پر درجنوں افراد کوموت کی بھینت چڑھارہے ہیں یہ ہم ہی ہیں۔ مارنے والے بھی ہم ہی ہیں مرنے والے بھی ہم ہیں۔

 یہ جو ریاست اپنی عجیب و غریب پالیسیوں کی بناء پر ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے تو یہ کیا ہے؟ ہماری اجتماعی یادداشت سے 71ء کا سن غائب ہے۔

 بلوچستان کا آپریشن غائب ہے۔ کراچی کا قتل عام غائب ہے، ہزاروں افراد کا قتل غائب ہے، سقوط کابل میں مرنے والوں کے نام غائب ہیں اور بہت کچھ غائب ہے۔

مگر یہ غائب نہیں ہے یہ اجتماعی یاداشت کا غائب شدہ حصہ فاسد خون بن کر ہمارے معاشرے کی رگوں میں دوڑ رہا ہے اور یہی جنون ہمیں ایسے بہیمانہ منظر دکھا رہا ہے کہ والدین اپنی اولاد کو اپنے ہاتوں موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ جنگ کی اصطلاح ہے۔ Collateral Damage یعنی ساتھ ساتھ ہونے والا نقصان، یہ 

سب کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ یہ ہماری 63 برسوں پالیسیوں کے اتار چڑھاؤ کی Collateral Damage ہے جس کا ہم شکار ہورہے ہیں۔

یہ وہ چھپا ہوا زہر ہے جو ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے جو ہمارے پڑوسی کو یہ جنون یافتہ جرأت بخشتا ہے کہ وہ ہم کو اپنی گولیوں کا نشانہ بناتا ہے۔ جو ہمارے بھائی کو یہ ہمت دیتا ہے کہ وہ ہم کو حالت نماز میں بھون دیتا ہے۔

جو ہمارے والدین کو اتنا بیگانہ کردیتا ہے کہ وہ اپنے مشفق ہاتھوں سے ہمیں موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ یہ جو ہم اپنی آسائش پر ہزاروں روپے صرف کردیتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ پڑوس میں کوئی بھوکا سورہا ہے۔

 کسی کو علاج کی ضرورت ہے کسی کو ہماری مدد درکار ہے یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔
یہ ہے بیگانگی۔ یہ ہے بے اعتباری۔ انسان کے زندہ رہنے کے عظیم ترین آدرش سے یقین اٹھ جانا۔

 جب ہم کسی کو زندگی نہیں بخش سکتے تو پھر اتنی جرأت کیسے کرلیتے ہیں کہ کسی کی زندگی چھین لیں۔

 اسلام نے تو قتل عمد کو شرک کے برابر کا گناہ قرار دیا تھا۔ مگر ہم نے معلوم نہیں اس 63 برس میں کتنی عجیب وغریب پالیسیوں کی رو سے کتنے گناہوں کو ثواب اور کتنے ثوابوں کو گناہ قرار دیدیا ہے کہ اب ہماری تمیز ہی رخصت ہوگئی ہے۔

 پڑوسی کو پڑوسی پر، بھائی کو بھائی پر، بچوں کو ماں باپ پر اور انسان کو معاشرے پر یقین نہیں رہا ہے۔

انسان انسان سے خوفزدہ ہے اور یہ ہے ہم نے پاکستان کے بننے سے اب تک جو جنگ خود اپنے آپ سے لڑی تھی اس کی Colateral Damage۔ 
یعنی اس کا غیر ارادی نقصان ہے۔

 ن۔ م۔ راشد نے کہا تھا: زندگی سے ڈرتے ہو زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں آدمی سے ڈرتے ہو آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں آدمی زباں بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے اس سے تم نہیں ڈرتے حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے

 وابستہ آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ اس سے تم نہیں ڈرتے، ان کہی سے ڈرتے ہو جو ابھی نہیں آئی، اس گھڑی سے ڈرتے ہو اس گھڑی کی آمد کی، آگہی سے ڈرتے ہو پہلے بھی تو گزرے ہیں

دور نا رسائی کے، بے ریا خدائی کے پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزو مندی یہ شب زباں بندی، ہے راہ خدا وندی تم مگر یہ کیا جانو لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں،

 راہ کا نشان بن کر نور کی زبان بن کر ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذان بن کر روشنی سے ڈرتے ہو، روشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں، روشنی سے ڈرتے ہو خودکشی، اولادکشی اور قتل و غارت گری کو روکنے کی ایک واحد تدبیر یہی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں زندگی سے محبت،

 اپنے آپ سے محبت اور زندہ رہنے کی محبت پیدا کی جائے، اور یہ کیسے کیا جائے؟ اس کے لئے آپ کو کسی ماہر نفسیات کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کسی دانشور یا مذہبی عالم سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے

 بس اپنے آپ سے محبت کریں اور اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی خدا کی عطا کردہ جیتی جاگتی زندگی سے محبت کریں۔ خودکشی یا قتل و غارت گری کرنے والے افراد میں پائی جانے والی علامات یہ علامات کی فہرست کوئی نفسیاتی اسکیل یا ٹیسٹ نہیں ہے۔

یہ فہرست اس لئے ترتیب دی گئی ہے کہ خودکشی اور قتل و غارت گری کے امکانات کو روکا جاسکے۔

 اگر مریض میں یہ علامات موجود ہیں تو پھر اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ مریض خود کو یا دوسرے افراد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بغیر کسی وجہ کہ یہ سمجھنا کہ لوگ مجھے نقصان پہنچا رہے ہیں یا مجھ کو غلط مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔-

دوسروں کے معمولی مذاق اور معصومانہ بے ضرر جملوں اور اشاروں کا مطلب یہ سمجھنا کہ وہ مجھے دھمکارہے ہیں یا تحقیر کررہے ہیں۔- کسی کو ہم راز نہ بنانا، کسی سے دل کی بات نہ کہنا۔

 ذرا ذرا سی بات پر چراغ پا ہوجانا۔- کسی ہمدرد، دوست، جگری یار، مونس و غم خوار کا نہ ہونا۔- ملاقات کے وقت سپاٹ چہرے سے ملنا، مجلسی تبسّم کا غائب ہونا۔- انوکھے اور عجیب و غریب خیالات اور اعتقادات کا ہونا۔

 رونما ہونے والے واقعات اور حالات کے بارے میں غیر حقیقی اور قطعاً غلط سوچ کا ہونا۔-  عجیب و غریب جذباتی رویے کا اظہار کرنا اور مختلف موضوعات اور صورتحال کے بارے میں سب سے الگ، حتمی اور شدید رائے کا اظہار کرنا۔- بغیر کسی معقول وجہ کے کام پر دیر سے آنا یا چھٹی کرلینا۔

 اپنے نفع کے لئے اور اپنی مرضی سے زیادہ تر جھوٹ بولنا۔- ملازمت کی بار بار تبدیلی اور انتظامیہ سے جھگڑے۔- قرضوں، بلوں کی ادائیگی، ٹیکسوں کے بھرنے میں کوتاہی کرنا۔

 خطرناک طریقے سے زندگی گزارنا، مثلاً بغیر احتیاطی تدابیر کے خطرناک طریقے سے ڈرائیونگ کرنا، شراب نوشی، بے جا اخراجات اور غلط صحبت وغیرہ۔ خود پر عائد اولاد کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنا۔- 

دوسروں کو تکلیف اور نقصان پہنچا کر بھی کسی قسم کی پشیمانی، افسوس محسوس نہ کرنا۔- لوگوں سے تعلقات میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کرنا یا تو بے تحاشہ اپنائیت کا اظہار کرنا یا پھر بالکل دشمنی پر آمادہ ہوجانا۔- غیر مستقل مزاجی اور مزاج کا اتار چڑھاؤ۔

غصہ کے دورے پڑنا۔- ہمیشہ دوستوں، اہل خانہ، سے شاکی رہنا۔- جذبات کا سطحی اور بناوٹی اظہار کرنا۔- توجہ کا ہر دم اپنے آپ پر مرکوز رہنا اور یہ چاہنا کہ ہر وقت لوگ ہمیں اہمیت دیں۔

 کسی قسم کے نظم و ضبط کو برداشت نہ کرنا۔- گفتگو ہمیشہ جذبات سے بھری ہوئی کرنا لیکن ان جذباتی جملوں کے پیچھے ضروری معلومات کا فقدان۔

 تنقید برداشت نہ کرنا اور تنقید کی صورت میں شدید شرم، غصہ اور بے عزتی محسوس کرنا۔- اپنے آپ کو تمام کائنات کا مرکز و محور تصور کرنا۔- 

بغیر کسی کارنامے کے یہ چاہنا کہ معاشرہ مجھے وہ عزت دے جو کسی ہیرو کو دی جاتی ہے۔- دوسروں کے نقطۂ نظر کو نہ سمجھنا اور نہ برداشت کرنا۔- اپنے آپ کو ہر عزت کا مستحق سمجھنا۔- ہر وقت سراہے جانے کی خواہش اور توجہ کی طلب۔

 اپنے رویے کی وجہ سے دوسروں پر مرتب ہونے والے صدمات سے قطعاً لاتعلق رہنا۔- اگر بات تسلیم نہ کی جائے تو غصہ میں آجانا اور تشدد پر آمادہ ہوجانا۔- ہر وقت دوسروں کو قائل کرنے کی خواہش اور کوشش کرنا۔-

سماجی سرگرمیوں اور میل ملاپ کی تقریبات میں شرکت نہ کرنا۔- اگر سماجی تقریبات میں شرکت کرنا تو سب سے الگ تھلگ رہنا۔-

شرمندگی کے خوف سے لوگوں سے دور رہنا اور گھلنے ملنے سے پرہیز کرنا۔-

یہ مضمون احساس انفورمییٹکس (پاکستان)۔
کی کتاب ،،خودکشی کی وجوہات اور بچاؤ،،سے منتخب کیا ہے
مدیر: ڈاکٹر امین بیگ

نظرَثانی: ڈاکٹر باقر رضا

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Posts