🚀 Want a superfast website? Hostinger is your launchpad! 🚀

وٹامن بی (9)فولک ایسڈ Vitamin B9 – Folic Acid

Back to Posts

وٹامن بی (9)فولک ایسڈ Vitamin B9 – Folic Acid

وٹامن بی (9)فولک ایسڈ (Vitamin B9 – Folic Acid)

 اس وٹامن کو فولیسن اور فولیئیٹ بھی کہا جاتا ہے۔
 یہ پانی میں کسی حد تک حل ہوجاتا ہے لیکن تیزابی (Acidic)محلول میں مستحکم رہتا ہے۔اساسی یا الکلی (Basic)
مادوں میں گرم کیا جائے تو بڑی تیزی سے ضائع ہوجاتا ہے۔
پکان کے کچھ طریقوں میں ضائع ہوسکتا ہے۔
 سلفر کی ادویات، دھوپ اور فوڈ پراسیسنگ سے اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔
 یہ چھوٹی آنت سے جذب ہوتا ہے۔
جذب ہونے کے بعد اس کی آدھی مقدار جگر میں ذخیرہ ہوتی ہے۔
 تھوڑی سی مقدار پیشاب اور فضلے کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔
ذرائع
 دالیں اورپھلیاں:چنے اورمونگ کی دال بہترین ذریعہ ہیں۔
 سبزترکاریاں:پالک، میتھی وغیرہ کافی مقدار میں فراہم کرتی ہے۔
 سبز پتوں والی سبزیوںمیں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔
فولاسین کا نام اس کے لئے پتوں یعنی فولیم کی وجہ سے دیا گیا ہے۔
 بیج اور گوشت سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

روزانہ ضرورت

مرد ۔ 100 مائیکروگرام
خواتین ۔ 100مائیکروگرام
حاملہ عورتیں ۔ 400 مائیکروگرام
دودھ پلانے والی خواتین ۔ 150 مائیکروگرام
بچے ۔ 80 مائیکروگرام
یرخوار بچے ۔ 25 مائیکروگرامفائدے
 یہ وٹامن بی (12) کے ساتھ خون کے سرخ ذرّات (R.B.C)
کی تشکیل پختگی اور افزائش کے لئے بہت ضروری ہے۔
 تمام خلیوں کی نشوونما اور تقسیم کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔
 اعصاب کے خلیے بھی اس کی موجودگی میں تشکیل پاتے ہیں۔
 یہ آر۔این۔اے (رائبونیوکلک ایسڈ (Ribo Nuclec Acid اور ڈی۔این۔اے (ڈیاوکسی رائبونیوکلک ایسڈ
(Deoxy Ribonulic Acid بھی اس کی بدولت بنتے ہیں جو موروثی ساخت کو آگے بڑھاتے ہیں۔
 یہ پروٹین کو جسم کا حصہ بنانے کے عمل اور معمول کی نشوونما کے لئے مددگار ثابت ہوتا ہے۔
 جلد اوربالوں کی صحت کے لئے ضروری ہے اوربالوں کو سفید ہونے سے بچاتا ہے۔
 حاملہ خواتین کے رحم میں پرورش پانے والے بچوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔
یہ ماں کا دودھ بڑھانے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔
 انفیکشن سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

کمی کی علامات اوربیماریاں

 اس کی کمی سے خون کی کمی (انیمیا Anemia) پیدا کرتی ہے جو عموماً حاملہ خواتین اور بچوں میں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔
 خون کی ناقص گردش کی علامات بھی ظاہر ہوتی ہے۔
 جلد کا بگاڑ، جلد پر خاکستری داغ اور بالوں کا گرنا بھی ہوسکتا ہے۔
 تولیدی بگاڑ مثلاً اچانک اسقاط حمل ، تکلیف دہ زچگی اورنومولود بچوں کی زندگی کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔
 اس کی کمی مردوں میں جنسی قوت کی کمزوری کا باعث بھی ہوسکتی ہے۔
 تھکان اورذہنی دباﺅ اورذہنی امراض کا باعث بھی ہوسکتی ہے۔
 جنون یا انحطاط عقل بھی اس کی کمی کی وجہ سے ہوسکتے ہیں۔
 بڑھاپے کے امراض میں مبتلا دو تہائی مریض اس وٹامن کی کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Posts