Back to Blog

کینسر کیا ہے اورکیسے ہوتا ہے؟

کینسر کیا ہے اورکیسے ہوتا ہے؟

کینسر لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب سمندری کیکڑا ہے۔
کیونکہ سرطان کی رسولی کیکڑے کی طرح آڑھی ترچھی ہوکر جسم کی بافتوں میں گھربنالیتی ہے اورپھیلتے ہوئے اپنے پنجے مکمل طورپر گاڑ لیتی ہے۔
ان بے لگام خلیات میں کروموسومز کی تعداد بھی نارمل نہیں رہتی۔
بعدازاں یہ بے لگام خلیے اپنے اصل مقام کو چھوڑ کر جسم کے کسی۔
اورمقام پر منتقل ہوکر وہاں بھی بڑھوتری کا بے لگام عمل شروع کردیتے ہیں۔
جس کے نتیجے میں اس مقام پر ابھار بننا شروع ہوجاتا ہے جسے عام طورپرٹیومر یا رسولی کہا جاتا ہے۔
یہی ٹیومر یا رسولی کینسر یا سرطان کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔
سرطانی خلیات صحت مند خلیات کی افزائش کے راستے میں رکاوٹ بن کر اپنی افزائش زور و شور سے کرتے ہیں ۔
جس کی وجہ سے انسان دن بہ دن لاغر اورکمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔

ٹیومر کیا ہوتا ہے؟

چھاتی کے کینسر کے متعلق آگاہی و شعور بیدار کرنے کے لیے ضروری ہے ۔
کہ عام افراد کو کینسر کیا ہے اور کیسے ہوتا ہے۔
کہ متعلق اورعورت کی چھاتی میں۔
پیدا ہونے والی گٹھلی یا ٹیومر کی ساخت کے متعلق معلومات فراہم کرنا چاہیے۔
تاہم ان میں سے کئی ایک مشترکہ خصوصیات کا مظاہرہ بھی کرتی ہےں۔
اگر ان کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوجائے، ان کی افزائش کی رفتار کا مشاہدہ ہو جائے۔
اور دواﺅں کی زیر اثر ان کے رویے پر نظر رکھی جائے تو علاج کے بارے میں کچھ حتمی فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔

ن(Gene):

عام فہم الفاظ میں معلومات فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔
تاکہ عوام الناس احتیاط ، علاج سے بہتر ہے۔
کہ معقولہ پر عمل کر کے چھاتی کے کینسر سے محفوظ رہ سکیں اور قبل از وقت تشخیص کرواکر بروقت علاج کرواسکیں۔
ڈی این اے(D.N.A.) چھوٹے چھوٹے حصوں میں بٹا ہوا ہوتا ہے۔
جنہیں جین کہا جاتا ہے انسانی ڈی این اے میں تیس سے چالیس ہزار کے درمیان۔
جین ہیںاورہر جین کے ذمے ایک مخصوص کام سپرد ہوتا ہے۔
کوئی جین آنکھوںکے رنگ کے لیے متعین ہوتا ہے تو کوئی انسولین کی پیداوار کے لیے۔
کوئی اعضا کی ساخت کا ذمہ دار ہوتا ہے تو کوئی ذہنی صلاحیتوں کی برداشت کا۔
لیکن بہت کم جین ایسے ہوتے ہیں جو اکیلے کوئی فعال سر انجام دیں۔ اکثر اوقات یہ مل کر کام کرتے ہیں۔
چنانچہ صرف خلیے کی افزائش کے عمل کی نگرانی ایک سو کے لگ بھگ جین کرتے ہیں۔
ان جینوںکو ہم دو گرہوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
ایک تو وہ جین ہیں۔
جو خلیے کی تقسیم کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ انہیں پروٹو اونکوجین (Proto oncogene)
جین کہہ سکتے ہیں۔ دوسرے گروہ میںوہ جین آتے ہیں جو خلیے کو تقسیم ہونے سے روکتے ہیں۔

ان کو رسولی کش (Tumor-suppressor genes)

جین کا نام دیا گیا ہے۔ جسم میں دونوں اقسام کے جین ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔
جب تک مزید خلیوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے افزائش افزاجین کام کرتے رہتے ہیں۔
جب مقررہ مقدار میں خلیے بن جاتے ہیں۔
تو رسولی کش جین حرکت میں آجاتے ہیں اور مزید تقسیم کو روک دیتے ہیں۔
اس سارے نظام کا مقصد یہ ہے کہ خلیے مناسب وقت پر مناسب تعداد میں تقسیم ہو۔

عمل تقلیب (میوٹیشن(Mutation

خلیے بار بار تقسیم ہوتے ہیں۔ اس دوران ڈی این اے بھی ہر بار دو حصوں میں منقسم ہوتا رہتا ہے۔
تاکہ نئے بننے والوں دونوں خلیوں کو ڈی این اے کی مکمل نقل مل سکے۔
ڈی این اے کی یہ تقسیم یوں تو حیرت انگیز طور پر منظم طریقے سے عمل پذیر ہوتی ہے۔
تاہم جیسا کہ پہلےعرض کیا گیا ، کبھی کبھار اس عمل میں کوئی خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔
اس خرابی کو تقلیب یا موٹیشن کہا جاتا ہے۔
تقلیب کے دوران ڈی این اے کی کتاب کا کوئی اہم حصہ نقل ہونے سے رہ جاتا ہے۔
اور اس کی جگہ نئے پیدا ہونے و الے خلیوںکوغلطی سے کوئی اور ہدایت مل جاتی ہے۔
اکثر اوقات تو یہ ہدایات بے معنی ہوتی ہے اور ان سے خلیے یا جسم کو کوئی نقصان نہیں۔
پہنچتا، لیکن بعض اوقات تقلیب شدہ ہدایات خطر ناک بھی ثابت ہوسکتی ہےں۔
اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا خلیہ جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

رسولیوں کی اقسام

رسولیوں (ٹیومر) کی دو بڑی اقسام مہلک اور غیر مہلک میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
-1 غیر مہلک رسولی (Benign)
-2 مہلک رسولی (Malignant)
غیر مہلک یا بینائن (Benign)
رسولی کا کینسر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اورایسی رسولی جسم کے دیگر حصوں پر پھیلتی بھی نہیں ہے ۔
جب کہ مہلک رسولی کینسر کی رسولی ہوتی ہے اورجسم کے دیگر حصوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔
بالعموم چھاتی کے سرطان کی کوئی ظاہری علامات نمودار نہیںہوتیں۔ عام طور پر چھاتیوں میں گلٹی محسوس ہوتی ہے۔
وہ جگہ دبیز سی لگتی ہے یا چھاتی میں گڑھا سا بن جاتا ہے۔
کم عمومی علامات میںچھاتی کی سوجن یا سرخی بھی ہوتی ہے یا بغل کے نیچے ایک خلط مائی ؟؟؟کا اُبھار ممکن ہے۔
ایسی گلٹیاں جو ماہانہ ایام کے شروع ہونے سے پہلے بنتی ہیں۔
اورایام کے ختم ہونے کے بعد غائب ہوجاتی ہیں، بالعموم پریشان کن نہیںہوتیں۔
ایام حیض شروع ہونے سے پہلے یا بعد میں اس قسم کی گلٹیاں کئی خواتین میں بننا ایک معمول ہوتا ہے۔
کینسر کے علاوہ دیگر کئی تبدیلیوں سے بھی چھاتیوں میں درد ہوسکتا ہے۔
دونوں چھاتیوں میں درد ہونا ایک ہلکی پھلکی تکلیف ہے۔
لیکن اگر چھاتی میں بے آرامی ہو اور وہ مسلسل بڑھ رہی ہوتو یہ ٹھیک نہیں ہے۔

کارسی نوما اور سارکوما میں فرق

کارسی نوما (Carcinoma) ایپی تھیلیل ٹشوز (Epithelial Tissues)
کا کینسر ہے، یہ ٹشوز جسم کے باہر غلاف کا کام دیتے ہیں ۔
اورجسم کے اندر مختلف اعضاءکی خلاﺅں میں استر کے طورپر موجود ہوتے ہیں۔
جسم کے غشائے مخاطی ؟؟؟اسی سے ترتیب پاتے ہیں۔

جب کہ سارکوما (Sarcoma)

کینسر کا وہ گروپ ہے۔
کنیکٹو ٹشوز (Connective Tissues) میں جنم لیتا ہے۔
یہ وہ ٹشوز ہیں جن سے ہڈی (Bone)، عضلات (Muscles) ، رباط (Ligaments) ، اوتار (Tendons) ، کری (Cartilage) اور لمفی رابطے (Lymphatic Vessels) تشکیل و ترتیب پاتے ہیں۔
Breast Cancer

کینسر کے مراحل

ٹیومر یا کینسر کے درج ذیل مراحل ہوتے ہیں:
کینسر سے قبل (Pre Cancerous)
عام حالت میں دودھ کی نالیوں میں موجود خلیے ایک ترتیب سے نظر آتے ہیں اوران میں تخصیص کی جاسکتی ہے۔
ہائپر پلیزیا (Hyperplasia)
کچھ خلیے اچانک نمودار ہوکرایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں۔
بے ترتیب خلیے (Atypical Ductal Hyperplasia)
خلیوں کی افزائش میں بے ترتیبی آجاتی ہے۔

چھاتی کے کینسر کی اقسام

-1 (Well Differentiated)
-2 (Moderately Differetiated
-3 (Poorly Differentiated)
-a (Nuclear Pleo Morphism)
-b (Tubular Formation)
-c (Mitotic)
(Current Nomenclature)

چھاتی کے کینسر کی اقسام (Types of Breast Cancer)

پستان یا چھاتی کے سرطان کے کئی روپ اور اقسام ہوتی ہیں مثلاً بہت کم رسولیاں اتنی شدید اور خطرناک ہوتی ہیں ۔
کہ ان سے ہلاکت کا اندیشہ ہو، چاہے ان گلٹیوں کا علم میموگرافیکے ذریعے ہوچکا ہو۔
اس کے برعکس کچھ رسولیاں سائز میں چھوٹی ہونے کے باوجود مہلک ثابت ہوتی ہیں۔
بعض سرطانی گلٹیاںاتنی سست رفتاری سے بڑھتی ہیں ۔
کہ برسوں تشخیص نہ ہونے کے باوجود ان سے ہلاکت واقع نہیںہوتی۔
چھاتی کے کینسر کی ایک قسم بہت پیچیدہ اورپریشان کن ہوتی ہے۔

جسے ڈکٹل کارسینوما اِن سیٹو (Ductal Carcinoma in Situ-DCIS)

کہتے ہیں یہ سرطان کی ابتدائی شکل سمجھا جاتا ہے۔
اس میں کینسر کے خلیات تیزی سے بڑھ کر پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں۔
لیکن کینسر کی یہی قسم، جو دودھ کی نالیوں میں بڑھتی ہے، اکثر انہی نالیوں میں بند رہتی ہے۔
بعض صورتوں میں یہ کینسرکے خلیات ان نالیوں سے باہر نکل کر کینسر کا روپ دھارلیتے ہیں۔
ماہرین نے عمومی طورپر درج ذیل اقسام بتائی ہیں جو چھاتی کے کینسر کے حوالے سے قابل ذکر ہیں:

دودھ کی نالیوں کا کینسر (Infiltrating Duct Carcinoma)

 ایک محتاط اندازے کے مطابق اسّی فیصد چھاتی کے کینسر اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔
ابتداءمیں یہ کینسر دودھ کی نالیوںمیں اپنی جگہ بناتا ہے ۔
اور یہاں سے پھیلتا ہوا نالیوں کی دیواروں پر بھی مسلط ہوجاتا ہے۔
ڈکٹل کارسینوما (Ductal Carcinom)
یہ سب سے زیادہ عام ہے جس کے ساتھ Lobular Carcinoma)
بھی ہوتا ہے جو کہ بریسٹ کینسر کا پندرہ فیصد ہوتا ہے۔
لوبیولر کارسینوما(Lobular Carcinoma) کی Sub Type بھی ہوتی ہے ۔
جس میں کلاسیکل ٹائپ (Classical Type) بھی شامل ہے ۔
جس کے بعد ازعلاج نتائج پلیومورفک ٹائپ (Plemorphic Type) سے زیادہ بہتر ہے۔

دودھ کی نالیوںکا سرطان (DCIS=Ductal Carcinoma in Situ)

I وہ خلیے جو سرطان کی طرح نظر آتے ہیں ۔
مگر اپنے اطراف کے ٹشوز کا محاصرہ نہیں کرتے ان کو ڈکٹل کارسی نوما اِن سیٹو (DCIS)
۔ کہا جاتا ہے جو صرف دودھ کی نالیوں میں ہوتے ہیں ۔
اوران کا حجم سوئی کی نوک سے زیادہ نہیں ہوتا۔
یہ پورے پستان میں پھیلے ہوئے ہوسکتے ہیں۔
سینے کے بیشتر ٹیومر، دودھ کی نالیوں میں جنم لیتے ہیں جو پورے پستان میں پھیلتی ہوتی ہیں۔
ان میں سے چند خلیے نامعلوم وجوہ کی بناءپر اچانک بڑھنا شروع کردیتے ہیں جو بڑھتے بڑھتے نالیوں کا سرطان (DCIS=Ductal Carcinoma in Situ) بن جاتا ہے۔

ان DCIS

خلیوںکی یہ خوبی ہے کہ یہ دودھ کی نالیوں سے باہر نہیں آتے، تاہم ان کی خامی یہ ہے کہ یہ دوبارہ بھی نمودار ہوسکتے ہیں۔
ڈکٹل کارسینوما ان سیٹوکو سرطان کی ابتدائی شکل سمجھا جاتا ہے۔
اس میں سرطانی خلیات تیزی سے بڑھ کر پورے جسم میں دندناتے پھرتے ہیں۔
لیکن سرطان کی یہی قسم جو دودھ کی نالیوں میں بڑھتی ہے، اکثر انہی نالیوںمیں بند رہتی ہے۔

دودھ کی نالیوں

اگر کوئی ٹیومر دودھ کی نالیوں سے باہر آجائے تب بھی اس کا سائز بہت کم ہوتا ہے۔
کسی میموگرافی میںنظر آنے والے چھوٹے سے چھوٹے ٹیومر کا سائز اعشاریہ پانچ سینٹی میٹر سے ایک سینٹی میٹر تک ہوسکتا ہے۔
جبکہ وہ ٹیومر جسے عورتیں یا ان کے معالج محسوس کرسکتے ہیں، اوسطاً ڈھائی سینٹی میٹر حجم کا ہوتا ہے۔
اگرچہ میموگرام میں دس فیصد عورتوں کے سینوں میں موجود ٹیومر کا علم نہیں ہوپاتا،
پھر بھی یہ اتنا کارگر ہے کہ ہر سال اپنا معائنہ کروانے والی خواتین میں یہ نظر ہی آجاتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق چار ایسے کیسز میں سے تین بے ضرر ہوتے ہیں ۔

جب کہ چوتھا سخت قسم کے سرطان کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

لمفی گانٹھوں میں ایک بار گہرائی میں اترنے والا ٹیومر بہت سی مشکلات کا سبب بن جاتا ہے۔
یہ گانٹھیں کئی طرح کے فاضل مادوں کی نکاسی کے لئے نالیوں کا کردار ادا کرتی ہیں۔
لہٰداایک بار ان گانٹھوں یںٹیومر پیدا ہوجائے تو اس کے ہڈیوں، دماغ، پھیپھڑوں اورجسم کے دیگرحصوں میں منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
جہاںوہ اپنے پنجے گاڑدیتے ہیں اسے میٹاسٹیس کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

کچھ ماہرین کے خیال میں اگر DCIS

دودھ کی نالیوں سے باہر نہیںآتے تو انہیں نظرانداز کردینا چاہئیے۔
تاہم ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چالیس فیصد سے زائد DCIS
بڑھ کر خطرناک ٹیومروںمیں تبدیل ہوجاتے ہیں، جنہیںنظرانداز کرنے سے وہ مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔
اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ساٹھ فیصد عورتوں میں موجود DCIS
خطرناک نہیں ہوتا اورانہیںجسم سے نکالنا ضروری نہیں ہے ۔
میموگرام کی ایجاد سے قبل ان کا علم محض اتفاق سے ہوتا تھا تاہم تشخیص کے جدید ذرائع سے ان کی موجودگی کا علم ہوجاتا ہے ۔
اس لئے ان کا فوری تدارک کردینا چاہئیے۔

چھوٹی نالیوںمیں بننے والے سرطان (DCIS)

کی تشخیص بھی آسان کام نہیں ہے۔
کیونکہ یہ واضح طور پر نظرنہیںآتا بلکہ ٹیومر سے متاثرہ خلیوں کی خاص ترتیب سے ہی اس کی موجودگی کا علم ہوتا ہے۔
اس ترتیب کو واضح طورپر پہچاننے کے لئے کبھی ایک یا کبھی دو مرتبہ بھی میموگرام کی ضرورت پیش آتی ہے،
کبھی کبھی بائیوپسی بھی ایک ممکنہ طریقہ ہوتا ہے۔

علاج

 اگرچہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ DCIS
میں سے کون سے خلیے آگے چل کر ٹیومر میں تبدیل ہوجائیں گے تاہم اعدادوشمار بتاتے ہیں ۔
کہ ایک بارسرجری کے ذریعے انہیں نکال دیا جائے تو اگلے پانچ برسوں تک بچاﺅ ہوسکتا ہے ۔
کیونکہ اسطرح چھاتی کے سرطان سے مرنے کا کوئی واقعہ تاحال ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔
 ان مریضوں میں ، جن میں DCIS
کسی ایک جگہ جمع ہوں، سرجری اور تابکاری مفید ہوسکتی ہیں، کچھ سرجنوںکے خیال میںصرف سرجری ہی ان کے علاج کے لیےکافی ہوتی ہے۔
II  دودھ کی نالیوںمیں موجود ٹیومر میںسے کچھ خلیے باہر نکل جاتے ہیں۔
 ایسی صورت میں دواﺅں سے علاج ممکن ہوتا ہے، تاہم کبھی کبھار تابکاری علاج بھی کرنا پڑتا ہے۔
 علاج کے بعد کئی خواتین پوری زندگی دوبارہ اس مرض میں مبتلا نہیں ہوتیں۔

سیٹو کارسینوما (Situ Carcinoma)

یہ Preinvasive Cancer کہلاتا ہے جس میں Epitelial Basement Membran شکستہ نہیں ہوتی ہے۔
یہ اب سے کچھ عرصہ قبل اتنا عام نہیں تھا مگر اب تشخیص کے لئے میموگرافی کی سہولت کی وجہ سے انگلینڈ می اسکریننگ کی وجہ سے بیس فیصد خواتین میں تشخیص ہوتا ہے۔یہ دو قسم کا ہوسکتا ہے۔
(Ductal -DCIS)
(Lubular -LCIS)
یہ عموماً دونوں جانب ہوتا ہے۔
 زیادہ متاثرہ قسم کا علاج سرجری اورریڈیو تھراپی ہے جبکہ کم متاثرہ قسم کا علاج صرف سرجری سے بھی تسلی بخش ہوتا ہے۔
 علاج کے لئے ضروری ہے کہ مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے اس کی مخصوص قسم کا تعین کیا جائے۔

 Tamoixfen or Armotase Inhibitor – Herceptin

وبیولر کینسر (Lobular Carcinoma)
سات فیصد خواتین کی چھاتی کا سرطان اس قسم سے تعلق رکھتا ہے۔
چھاتیوںکے لیوبیولز میں پائے جانے والے سرطان کے متعلق ماہرین یقین رکھتے ہیں۔
کہ یہ خطرناک صورت اختیار کرجاتا ہے ۔
اور متاثرہونے والی خواتین میں سے تقریباً پچیس فیصد خواتین کا یہ کینسر انتہائی خطرناک صورت اختیار کرکے جان لیوا ہوسکتا ہے۔
میوسی نس یا کولائڈ کینسر (Mucinous or Colloid Carcinoma)
 پچھتر سال سے زائد عمر کی ایسی خواتین جنہیں سرِ پستان سے مواد رسنے کی شکایت رہتی ہے، ان میں یہ کینسر دیکھا گیا ہے۔

 ڈکٹل (Ductal) اور لوبیولر(Lobular)

ٹائپ کی تشخیص کے لئے مختلف ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں۔
 میوسینس کارسینوما (Mucinous Carcinoma) کی قسم بہت کم پائی جاتی ہے۔
ان کینسر کے نتائج بھی بعداز علاج بہتر ہوتے ہیں۔
ان کے سیل بہت سا میوسنس (Mucinous)
مواد خارج کرتے ہیں۔

چھاتیوں کی انفیکشن یا کینسر (Inflammatory Breast Cancer)

 ایک تا چار فیصد خواتین میں یہ کینسر دیکھا گیا ہے اور عمومی طور پر اس کینسر کو باقی اقسام سے زیادہ خطرناک مانا گیا ہے،
کیونکہ چھاتیوں یا پستان کی انفیکشن عموماً چھاتیوں کے کینسر کا موجب ہوتے ہیں۔

پیجٹ ڈیزیز (Paget’s Disease)

پیجٹ یا پیگٹ (Sir James Paget) ایک انگریزی سرجن (1814ءتا 1899ئ) گزرے ہیں، ان کے نام سے کینسر کے حوالے سے یہ قسم مشہور ہے،
یہ زیادہ تر درج ذیل تین اقسام میں مشہور ہے:
 براہ راست اپاہج پن کی صورت رکھتا ہے۔
پیگٹ عارضہ جونپل کے ایگزیماکی صورت سے مشابہ ہے، بظاہر یہ عارضہ اتنا خطرناک نہیں ہے لیکن یہ کینسر کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔
 بالغ افراد کے پسینے کے غدود پر حملہ آور، اس وجہ سے جلد کا کینسر لاحق ہوجاتا ہے۔

ٹیوبولرکارسی نوما (Tubular Carcinoma)

 یہ بھی فلٹریٹ کارسی نوما کی ایک قسم ہے۔
نالیوں کے چھوٹے چھوٹے حصوں پر پائے جانےوالے کارسی نوما کو یہ نام دیا گیا ہے۔

نپل کا دانہ یا کینسر (Papillary Carcinoma)

 ایک تا دو فیصد کواتین میں یہ عارضہ رونما ہوسکتا ہے اورزیادہ تر بلکہ عمومی طورپر سنِ یاس کے دور سے گزرنے والی خواتین ہی اس میں مبتلا ہوتی ہیں۔
ایسا کینسر جو صرف دو سے تین سینٹی میٹر تک محیط ہو وہ پیپلری کارسینوما(Pappilary Carcinoma)
نوما کہلاتا ہے۔
انفلیمیٹری کارسینوما (Inflammatory Carcinoma)
 بدقسمتی سے بریسٹ کینسر کی یہ قسم بہت کم خواتین میں پائی جاتی ہے۔

 یہ کینسر بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔

 اس میں بریسٹ بہت زیادہ سوج جاتا ہے اور شدید درد ہوتا ہے۔
 کینسر میں بریسٹ کا لمفی نظام کینسر کے خلیوں کی وجہ سے بلاک ہوجاتا ہے۔
اس کینسر میں چھاتی کا ایک تہائی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
جس کی وجہ سے بریسٹ کی شکل ا س طرح کی ہوجاتی ہے کہ اس میں مواد بھرا ہوا ہے۔
 اس کی تشخیص بائیوپسی کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے۔
 یہ ایک موذی کینسر ہے مگر اس کا علاج کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی اوربھرپورسرجری کے بعد کیا جاسکتا ہے۔
جس کے نتائع بعداز علاج بہتر ہوتے ہیں۔
یہ مضمون احساس انفورمییٹکس پاکستان۔
https://ahsasinfo.com
مزید آگاہی کے لیےؑ ویب پر کتاب کا مطالعہ کیجےؑ

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Blog