Yellow fever

Back to Blog

Yellow fever

زرد بخار


مچھروں کے ذریعے پھیلنے والا زرد بخار افریقہ اور جنوبی امریکا کے کچھ علاقوں میں عام ہے۔ زرد بخار کی دو قسمیں ہیں اور یہ مختلف طریقوں سے پھیلتا ہے۔

جنگل کا زرد بخار

یہ جنگل میں انفیکشن زدہ مچھروں سے بندروں میں اور بندروں سے مچھروں میں منتقل ہوتا ہے۔

 انسان ایسے انفیکشن زدہ مچھروں ے کاٹنے سے زرد بخار میں مبتلا ہوتے ہیں جو بندروں سے انفیکشن میں مبتلا ہوئے ہوں۔

 جنگل کے زردبخار میں عموماً وہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں جو ٹروپیکل رین فاریسٹ میں کام کرتے ہیں۔

شہری زردبخار


اکثر وبائی صورت اختیار کرنے والا شہری زرد بخار ملیریا اورڈینگی کی طرح مچھروں کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو آلودہ خون ایک فرد سے دوسرے میں منتقل کرتے ہیں۔

 زرد بخار بھی انہی مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے جو ڈینگی بخار پھیلاتے ہیں تاہم زردبخار کا دائرہ فی الحال محدود اورمخصوص علاقے تک ہے۔

علامات

تیز بخار، سردی، عضلاتی درد (خصوصاً کمر کا درد)، سردرد، بھوک محسوس نہ ہونا، متلی، قے، اور نبض کا آہستہ ہونا زرد بخار کی علامات ہیں۔

 اکثر صورتوں میں انفیکشن زدہ فرد تین سے چار دن میں خود کو بہتر محسوس کرنے لگتا ہے۔ 

کچھ لوگوں میں (تقریباً سات میں ایک) بخار چوبیس گھنٹے کے بعد واپس لوٹ آتا ہے۔ یرقان، پیٹ میں درد اور قے کے ساتھ منہ ، ناک، آنکھوں اور پیٹ سے خون بہنا شروع ہوسکتا ہے۔
 
اس صورت میں مریض دس سے چودہ دن میں مر بھی سکتا ہے لیکن بیمار افراد میں لگ بھگ پچاس فیصد زرد بخار کے دوسرے حملے سے نہ صرف جانبر ہوجاتے ہیں بلکہ انہیں کوئی قابل ذکر نقصان بھی نہیں پہنچتا ہے۔

علاج

 
زرد بخار کا بہترین علاج بیڈ ریسٹ اور پانی خوب پینا ہے۔ زیادہ تر لوگ وقت کے ساتھ ساتھ مرض کے خلاف مزاحمت پروان چڑھنے کے باعث مکمل طور پر صحت یاب ہوجاتے ہیں۔

 دوبارہ زردبخار میں مبتلا ہونے والے کم ہوتے ہیں لیکن ان میں بھی بیشتر صحت یاب ہوجاتے ہیں۔

سدباب یا بچاﺅ


ملیریا اورڈینگی کی طرح زردبخار سے بچاﺅ کا بہترین طریقہ مچھروں کے کاٹنے سے بچنا اور مچھروں کی افزائش پر کنٹرول ہے۔ 

زردبخار سے بچاﺅ کی ویکسین موجود ہے لیکن یہ ہر جگہ دستیاب نہیں اور اکثر علاقوں کے لئے مہنگی ہوسکتی ہے۔

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Blog