ہایؑ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیےؑ ہدا یت اور احتیاط

Back to Posts
ہائی بلڈ پریشر خاموش خطرہ

ہایؑ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیےؑ ہدا یت اور احتیاط

ہایؑ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیےؑ ہدا یت    اور احتیاط


فراغت سستی نہیں۔ یہ فالتو وقت کام اورکاروبار سے آزاد ہوتا ہے۔ ایک طرح سے یہ کام سے ہی حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کا کام 

اعصاب شکن اور تناؤ سے بھرپور ہے تو فراغت اس لئے ضروری ہے کہ آپ کے ذہن کو آرام اور سکون میسر آئے اورآپ کا بلڈ پریشر نارمل ہوسکے۔ اسے آپ کی دلچسپی کے مطابق سود مند طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یعنی مطالعہ، موسیقی، مشاغل، دوستانہ مباحثے، یا ٹیلی ویژن پروگرام دیکھنا۔ اس فراغت کو آپ اپنی دلچسپی کے ساتھ گزاریں توآپ کی توانائی بحال ہوجاتی ہے۔
آج مقابلے کا دور ہے۔ مقابلے کی اس فضاء میں چھٹی سے بہتر ایسی کوئی چیز نہیں جوسال بھر کام کرنے کے دوران پیدا ہونے والے تناؤکو دور کرتی ہے آپ کا کام بھاگ دوڑ والا ہے یا ڈیسک، ٹیبل پر بیٹھ کر ذہنی تگ و دو کا۔ مسلسل دباؤ اور تناؤ کا ماحول آپ کے بلڈ پریشر کو متاثر کرتا ہے۔چھٹیوں کا اصل مقصد ماحول کی تبدیلی ہے۔ جس طرح دن بھر کام کے بعد نیند ضروری ہے اسی طرح مسلسل کئی ماہ کام کرنے کے بعد چھٹیاں بہت ضروری ہیں۔ چھٹیوں میں آپ اپنے آپ کے ساتھ پرسکون طریقے سے رہتے ہیں۔ کام کی جگہ اورگھر سے دور مختلف ماحول میں ہر طرح کے بوجھ سے آزاد ہوتے ہیں۔ اس کا خوشگوار اثر آپ کے اعصاب اوراحساسات پر مرتب ہوتا ہے۔ جب آپ چھٹیاں گزار کر واپس کام پر آتے ہیں تو آپ کو سب چیزیں ایک نئے تناظر میں ملتی ہیں۔ آپ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں۔ چھٹیوں سے پہلے مسائل کے حل آپ کو سوجھتے نہیں تھے اب ذہن پر زیادہ زور ڈالے بغیر جیسے اچھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ جو کام پہلے بہت بوجھل اور اکتا دینے والا محسوس ہوتا تھا اب اس میں زیادہ دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ دراصل یہ سب کچھ چھٹیوں کی آسودگی کی وجہ سے ہے۔ اب آپ کے کام کی مقدار اور کوالٹی بہتر ہوگئی ہے۔ اسی طرح جب کوئی فرد مسلسل کام کے بعد پرسکون جگہ پر چھٹیاں گزار کر آتا ہے تو اس کا سماجی رویہ بھی بہتر ہوجاتا ہے۔ چھٹیاں دراصل آپ کے بلڈ پریشر کونارمل کردیتی ہیں چنانچہ کام کے ساتھ آپ کی صحت بھی بہتر ہوجاتی ہے۔ آپ کے ذہن اور جسم کو دباؤ اور شہری زندگی کے بوجھل پن سے نکل کر بحال ہونے میں مدد ملتی ہے۔ چاہے آپ بہت اچھے ماحول اورپُرآسائش گھر میں رہتے ہوں۔ ماحول کی تبدیلی بہرحال ایک مخصوص عرصہ کے بعد آپ کے لئے ضروری ہوتی ہے۔
اپنی چھٹیاں، صحت کی ضروریات پوری کرنے کے لئے محتاط اور تفصیلی منصوبہ بندی کے مطابق گزاریئے۔ عموماً ڈاکٹروں سے پوچھا جاتا ہے کہ کتنی مدت کے بعد اور کس قدر چھٹیاں گزارنی چاہئیں۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ کچھ مدت کے بعد اپنے کام کاج کا سوئچ آف کردیں۔ اپنے کام اور اس سے متعلقہ پریشانیاں اور مسائل چھوڑ چھاڑ کر الگ ہوجائیں۔ اگر ممکن ہو تو ہر سال ایک سے دو ہفتوں کے لئے چھٹی پر ضرور چلے جائیں۔
چھٹیوں کا بہتر وقت کون سا ہے؟ گرمیوں کے ہجوم اور حدت سے بچنا آپ کو مطلوبہ آرام مہیا نہیں کرے گا۔ موسم بہار اور برسات سب سے بہتر وقت ہوتا ہے۔
l چھٹیاں گزارنے کے لئے جس قدر کم تکلیف دہ اور خوشگوار سفر اور دور دراز مقام پر قیام ہوگا آپ کے لئے زیادہ پرسکون اورراحت بخش ہوگا درختوں سے بھری پہاڑیوں کا سرسبز زیریں علاقہ مناسب مقامات ہیں۔ معتدل آب و ہوا والے ساحل بھی اچھی تفریح گاہ ثابت ہوتے ہیں۔
l سطح سمندر سے 1300 سے 2600 فٹ بلند علاقے بہت عمدہ قرار دیئے جاتے ہیں تاہم جن افراد کو ہلکا ہائی بلڈ پریشر ہو وہ پانچ ہزار فٹ بلند مقامات پر بھی جاسکتے ہیں لیکن اگر آپ کو شدید قسم کا ہائی بلڈ پریشر ہے اور کثافت تنفس کے ساتھ دل کا عارضہ ہے تو آپ کے لئے چار ہزار فٹ سے اوپر بلند مقامات مناسب نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ہر اس فرد کو جس کا بلڈ پریشر ہائی رہتا ہے بلند مقامات سے گریز کریں خاص طور پر پہاڑی علاقے میں کیبل کار کا استعمال قطعاً موزوں نہیں۔
l اگرآپ لمبے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو بہتر ہے کہ اپنی کار گھر میں رہنے دیں۔ کیونکہ کار کے اسٹیرنگ پر گزارا ہوا ایک دن بھرپور کام کے ایک دن سے زیادہ سخت

اوراعصاب شکن ہوتا ہے۔ خود ڈرائیونگ کرنے کی بجائے کسی اورکے ذریعے سے کئے گئے سفر میں منزل پر پہنچ کر آپ زیادہ پرسکون اورتروتازہ محسوس کریں گے۔ چھوٹے سفر میں تو آپ کار کی بجائے بائیسکل استعمال کرنا شروع کردیں۔ لیکن اگر آپ کار کی ضرورت ناگزیر سمجھتے ہیں تو پھر ڈرائیونگ کے دوران وقفہ رکھیئے اورہجوم والی شاہراہوں سے گریز کیجئے۔

l چھوٹے سفر میں ہوائی جہاز کے ذریعے آمدورفت عموماً بلڈ پریشر کے لئے تکلیف دہ نہیں ہوتی اور بلڈ پریشر کے مریض کو کیبن پریشر کسی بڑی تبدیلی کا احساس نہیں دیتا چنانچہ بہت سے مریض چھوٹے فاصلے کے ہوائی سفر کسی رسک کے بغیر کرسکتے ہیں۔ لمبے ہوائی سفر کے دوران 33 ہزار سے 40 ہزار فٹ بلند پرواز ان افراد کے لئے بے ضرر ہوتی ہے جن کا بلڈ پریشر کنٹرول میں ہوتا ہے اوروہ آرام دہ کیفیت میں رہتے ہیں لیکن جہاز کے ٹیک آف اورلینڈنگ کے وقت بلڈ پریشر میں اچانک تبدیلی سنگین مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ایسے مریض جنہیں شدید قسم کا ہائپر ٹینشن، یا جن کا بلڈ پریشر کنٹرول میں نہیں یا جنہیں انجائنا، بے قاعدہ دھڑکن، بالائی شریانوں میں نقائص یا حال ہی میں دل کا دورہ پڑچکا ہے انہیں ہوائی سفر کا رسک نہیں لینا چاہئیے یا کم از کم اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرکے سفر پر جانا چاہئیے۔ دوران پرواز ایسی غذا سے پرہیز کرنا چاہئیے جو تبخیر پیدا کرتی ہو۔ کاربونیٹڈ مشروبات نہ استعمال کریں اور بین الاقوامی سفر کے دوران وقت کی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے وقت کے مطابق دوا کھانے کا شیڈول ذہن میں رکھیں۔ معدنی پانی میں سوڈیم کی مقدار خاصی حدتک شامل کی جاتی ہے اس طرح کا پانی استعمال کرنے سے گریز کیجئے اور اگرآپ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ہر قیمت پر پہلے ڈاکٹر سے رجوع کیجئے۔

l ہائی بلڈ پریشرکے مریض کے لئے دھوپ اور بھاپ کا غسل موزوں نہیں ہے۔ دھوپ اور حرارت ان کے ننگے بدن کے لئے ضرر رساں ہوتی ہے خاص طور پر اس صورت میں کہ آپ ہائپر ٹینشن کے علاج میں طاقتور ادویات لے رہے ہیں۔ گرم آب و ہوا میں تھوڑی دیر کا آفتابی غسل اور تھوڑی بہت جسمانی سرگرمی ہی کافی ہوتی ہے۔ بھاپ کا غسل دل اور خون کی گردش کے نظام پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالتا لیکن اس کے بعد برف جیسے ٹھنڈے پانی کا غسل انتہائی نقصان دہ ہے کیونکہ یہ آپ کے بلڈ پریشر کو خطرناک بالائی سطح پر لے جاسکتا ہے۔ ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے سے پہلے جسم کا درجہ حرارت نارمل ہونے دیں۔

غذا اور ادویات

اپنی چھٹیوں کے دوران اپنی موزوں غذا سے انحراف نہ کریں اور ادویات کا استعمال کبھی مت روکیں چاہے مسلسل آرام کی وجہ سے آپ کا بلڈ پریشر معمول پر آچکا ہو۔ اپنا بلڈ پریشر چیک کرتے رہیں۔ بلڈ پریشر نارمل ہونے کی صورت میں دوائی کی مقدار کم کرنے کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ بیرون ملک جارہے ہوں تو اس بات کو یقینی بنالیں کہ آپ کی ادویات آپ کو دستیاب رہیں گی یا پھر اپنے ساتھ ان کی معقول مقدار رکھیں کیونکہ ہوسکتا ہے جہاں آپ جارہے ہوں وہاں یہ دوا میسر نہ ہو۔

یہ مضمون احساس انفورمییٹکس (پاکستان)۔
https://ahsasinfo.com
کی کتاب ،،ہایؑ بلڈ پریشر،،سے منتخب کیا ہے
مدیر: ڈاکٹر امین بیگ)۔)
نظرَثانی: ڈاکٹر طارق عزیز۔ایف-سی-پی-ایس(میڈیسن)۔)
مزید آگاہی کے لیےؑ ویب پر کتاب کا مطالعہ کیجےؑ

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Posts