بحالی کا مرحلہ (Recovery(Convalescent) Phase)
24 سے 48 گھنٹے کے بعد پلازمہ کے اخراج (لیکیج، Leakage) کا عمل رُک جاتا ہے
اور خون کی نالیوں کے باہر (Extravascular Fluid) دوبارہ جذب ہونا شروع ہوجاتا ہے اور مریض کی عمومی طبیعت بحال ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
بھوک بحال ہوجاتی ہے۔
پیٹ کی تکلیف رفع ہوجاتی ہے
دوران خون کی بحالی ہوتی ہے اور پیشاب کا اخراج شروع ہوجاتا ہے۔
بول چال اوراحساسات میں مثبت فرق نظر آتا ہے۔
دل کی دھڑکن متوازی اوربلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے۔
اگر مریض کو نس کے ذریعے (Intravenous Fluids) زیادہ ڈرپ (Drip) لگائی گئی ہو توکھانسی اورہاتھ پاﺅں پر سوجن نمودار ہوتی ہے
جو دل اورپھیپھڑوں کے فعل میں کمی (Pulmonary Oedema or Congestive Heart Failure) © کی علامت ہے لہٰذا ڈاکٹر حضرات اُسے کنٹرول کرنے کے لئے دوائیاں تجویز کرتے ہیں۔
گلے میں خرخراہٹ، کھانسی اورسانس لینے میں دشواری جیسی پیچیدگیاں مرض کے دوران نمودار ہوتی ہیں۔
بہتر علاج کی صورت میں 24 گھنٹے مزید گزرنے کے بعد خون میں سفید خلیوں کا تناسب نارمل لیول پرآجاتا ہے۔
ڈینگی وائرس کے انفیکشن یا ڈینگی کے مرض کے تینوں مراحل کوعلاماتکے حساب سے یوں تقسیم کیا جاتا ہے۔
کچھ مریضوں میں مخصوص قسم کے دھاپڑ (Rashes)
ہوجاتے ہیں ۔
کچھ مریضوںمیں تمام جسم پر خارش (Pruritis)
ہوتی ہے۔
اس مرحلہ میں دل کی رفتار کم ہونا اور ای۔سی۔جی (E.C.G) میں بھی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔
اس مرحلہ میں پلیٹ لیٹ اور سفید جرثیموں (Platelets/W.B.C) کی تعداد بحال ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
خلاصہ
پہلا مرحلہ: جسم میں پانی کی کمی ، شدید بخار (شدید بخار کی وہ زبان میں لکنت) نظر میں کمی، چکر آنا۔
بچوں میں گردن کا اکڑجانا وغیرہ کی علامات شامل ہیں۔
دوسرا مرحلہ: پلازمہ لیکیج کی وجہ سے تشنجی کیفیات، سماعتی و بصری دشواری، بھوک میں کمی۔
تیسرا مرحلہ: خون میں پوٹاشیم کی کمی Hypokalemia) (کا امکان ہوتا ہے اگر مریض کو نس کے ذریعے (Intravenous)
زیادہ پانی دیا جائے۔
ڈینگی ہیمریجک فیور(Dengue Hemorrahagic)
مندرجہ ذیل تمام علامات کا موجود ہونا۔
یکدم بخار سے سات دن تک جاری رہنا۔
خون کے اخراج کی علامتیں جو ابتداءمیں جسم پر مختلف قسم کے سرخ نشانات کی شکل میں نظر آتی ہیں جو کہ درج ذیل صورت میں ہوسکتے ہیں۔
پیٹیچیا(Petechiae)
ایکائیموسسز(Ecchymosis)
پرپیورا(Purpura)
منہ سے، آنتوں سے خون اخراج یا انجیکشن لگنے کی وجہ سے خون کا اخراج۔
پلیٹ لیٹس کی مقدار 100,000/mm3
سے کم ہوجانا۔
پلازما کا نالیوں سے اخراج ، جس کی وجہ سے پھیپھڑوں میں پانی جمع (Pleural Effusion) ہوجاتا ہے،
پیٹ میں پانی جمع ہوجانا (Ascites)، خون میں پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے (Hypoproteinemia) یا خون میں البیومن (Hypoalbuminemia)
کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔
-1 مریض کے تھوک، بلغم میں خون کی آمد پھیپھڑوں میں خون رسنے کی علامت ہے، پھیپھڑوں میں زیادہ خون رسنے سے مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوسکتی ہے۔
گردوں کے فعل میں کمی یا گردوں کوناکارہ ہوجانا بھی ممکنات میں شامل ہے۔
-3 آنتوں میں السر کی شکایت۔
-4 بلڈ پریشر میں کمی یا زیادتی کی صورت میں ہارٹ اٹیک۔
جسم سے خون کے اخراج کی پیچیدگیوں(Hemorrhagic Complications) کی صورت میں مریض کو خون لگایا جاتا ہے
جس کی ابتدائی مقدار 50-90ml
ہے یہ مقدار ضرورت پڑنے پر بڑھائی بھی جاسکتی ہے۔
یہ خون جسم میں آکسیجن کی بحالی میں مددگار ہوتا ہے، مزید پیچیدگی کی صورت میں مریض کو آکسیجن بھی لگائی جاسکتی ہے۔
ڈینگی شاک سنڈروم (Dengue Shock Syndrome)
اس میں ڈینگی ہیمریجک فیورکی علامات کے ساتھ ساتھ شاک (Shock) کی علامات بھی ہوتی ہے۔
دل کی رفتار کا تیز ہونا (Tachycardia)
ہاتھ، پیروں کا ٹھنڈا ہونا۔
نبض کا کمزور ہونا۔
تھکاوٹ اور بے چینی جو دماغ میں خون کی سپلائی کم ہونے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔
خون کی باریک نالیوںسے خون کی واپسی کی بحالی میں تاخیر ہونا(Delayed Capillary Refill)
ڈائیسٹولک پریشر (Diastolic Pressure) کا بڑھ جانا یعنی 100/80mmHg
عمر کے لحاظ سے بلڈ پریشر میں کمی یعنی 5 سال سے کم عمر بچوں میں سسٹولک بلڈ پریشر (Systolic B.P) 80nm Hg سے کم ہونا، پانچ سال سے بڑے بچوں اور بالغوں میں 90 mmHg
سے کم ہونا۔
ایکسٹینڈیڈڈینگی سنڈروم (Extended Dengue Syndrome)
اس سے مراد ڈینگی انفیکشن کا غیرمعمولی انداز سے پیش آنا ہے جس میں اعصابی نظام، جگر، گردے اور دیگر اعضاءبھی ساتھ ساتھ متاثر ہوتے ہیں۔
یہ ڈینگی شاک سنڈروم کی پیچیدگی کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے اور اس میں مریض کی حالت اور اہم علامات مندرجہ ذیل ہوسکتی ہیں ۔
پیٹ کا درد۔
جگر کی سوزش اور جگر کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہونا۔
اعصابی نظام کا متاثر ہونا۔
اخرجی نظام (گردوں کا نظام) کا متاثرہونا۔
دل کے نظام کا متاثر ہونا۔
نظام تنفس کا متاثر ہونا۔ سانس لینے میں دِقت ہونا اور پھیپھڑوں میں خون کا اخراج ہوسکتا ہے۔
پٹھوں کے نظام کا متاثر ہونا۔
لمف نوڈ (Lymph Node)اور تلی (Spleen) کا نظام متاثر ہونا۔
(آنکھوں )بصری کا نظام کا متاثر ہونا۔
اس کے علاوہ بالوں کا گرنا اور نفسیاتی عارضے کی علامات بھی ہوسکتی ہیں۔
LEAVE A COMMENT