Types of dengue fever By far the symptoms

Back to Blog

Types of dengue fever By far the symptoms

ڈینگی بخار کی اقسام بلحاظ علامات


ڈینگی وائرس کا انفیکشن ایسا مرض ہے جو بغیر علامات کے بھی ہوسکتا ہے اوربخار کی مختلف اقسام کی علامات بھی ہوسکتی ہیں جسے وائرل سنڈروم (Viral Syndrome) 
کہا جاتا ہے۔
 اس کی علامات کے مطابق تقسیم مندرجہ ذیل ہے۔
وائرل سنڈروم (Viral Syndrome)، (Undifferentiated Febrile Illness)

ڈینگی بخار (Dengue Fever) DF

ڈینگی ہیمریجک بخار 
-(Dengue Hemorrhagic Fever) DHF
ڈینگی شاک سنڈروم (Dengue Shock Syndrome) – DSS
ڈینگی بخار ایک متحرک بیماری ہے۔ اس کی علامتیں بیماری کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی ہیں۔
مختلف قسم کی بیماریوں اور بخار میں ڈینگی بخار جیسی علامات نظر آتی ہیں۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ ڈاکٹر علامات اورٹیسٹ کی بنیاد پرڈینگی بخار کی تشخیص کرکے دیگر بیماریوں اوربخاروں سے ڈینگی بخار کی حتمی تشخیص کرے۔

ڈینگی بخار(Dengue Fever) 

ڈینگی وائرس کے جسم میں داخل ہونے اوراس کی علامات کے اچانک (Abruptly) شروع ہونے پر تین مدارج ہوتے ہیں۔
بخار (Febrile)
تشویشناک (Critical)
بحالی (Recovery)


ابتدائی مرحلہ (Febrile Phase)

اس مرحلہ میں مریض کو شدید بخار کی علامت ظاہر ہوتی ہے، یہ بخار دو سے دس دن تک رہ سکتا ہے۔ 
مریض کو بخار کے ساتھ ساتھ جسم میں اینٹھن شدید درد رہتا ہے۔ 
مرض کی شدت میں مریض کوالٹیاں شروع ہوتی ہیں اور جس کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی (Dehydration) 
ہوجاتی ہے۔ 
مردوں میں ناک اوربلغم میں سے خون آنا شروع ہوجاتا ہے، عورتوں میں اعضائے مخصوصہ سے خون آنا شروع ہوجاتا ہے۔ 
اس کے بعد خون رسنے کا مرحلہ (Hemorrhagic Bleeding) میںپٹھوں کی بافتوں کی ممبرین میں سے خون آتا ہے
 اورمریض کے خون میں سفید خلیوں میں نمایاںکمی ہوجاتی ہے اور جگرمیں سوزش پیدا ہوجاتی ہے یعنی جگر بڑا ہوجاتا ہے۔ 
مریض کے جسم کا درجہ حرارت 39oC سے نیچے رکھا جائے، ٹھنڈے پانی کی پٹیوں کا استعمال جسم کا درجہ حرارت کم کرتا ہے۔

تشویشناک دورانیہ (Critical Phase) تشویشناک مرحلہ

یہ بخار کے دور کے آخری دورانیہ میں ہوتا ہے۔
 عموماً بخار کے تیسرے دن سے شروع ہوتا ہے اور یہ عموماً بیماری کے تیسرے سے پانچویں روز میں ہوتا ہے اوربخار کے ساتویں دن تک ہوسکتا ہے۔
 ایسے میں بسااوقات بخار ایک دم کم ہوجاتا ہے جس کی وجہ خون کی باریک نالیوں(Capillary) میں جاذبیت (Permeability) 
کا بڑھ جانا ہوتا ہے۔
دیگر وائرل انفیکشن میں بخار اُترنے کے بعد طبیعت یکدم بحال ہوجاتی ہے جبکہ ڈینگی ہیمرجک فیور (DHF) 
میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ 
ایسے موقع پر ڈینگی فیور کے مریض کی طبیعت یا تو بحال ہوجاتی ہے
 یا اگر خون کی نالیوں سے خون کا کثیر مقدار میں اخراج کا عمل کا آغاز ہوچکا ہو تواس صورتحال میں مریض کی طبیعت تشویشناک ہوسکتی ہے۔
پلازمہ کی یہ کمی مناسب کنٹرول نہ کیا جائے تومریض کو تشنجی کیفیات (Tetanic)یعنی جھٹکے لگنا شروع ہوجاتے ہیں۔
 کھانسی عموماً تشنجی کیفیات کا آغاز کے مرحلہ کی علامت ہے۔ 
یہ تشویشناک دور چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے کے دورانیہ پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ ایسے میں دوران خون کی مختلف پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔ 
یہ کم شدت میں مبتلا مریضوں میں بہت معمولی اور عارضی ہوتا ہے۔
 ایسے میں بہت سے مریضوں کی طبیعت فوراً بحال ہوجاتی ہے۔
 بعض اوقات ایسے مریضوںکو نس کے ذریعے پانی (ڈرپ) اور نمکیات (الیکٹرولائٹ) فراہمکئے جاتے ہیں اور مریض بیماری سے بحال ہوجاتا ہے۔ 
بعض مریضوں میں جن میں خون (پلازمہ) کا اخراج خون کی نالیوں سے شدید ہوتا ہے تو ایسے مریضوں میں بے چینی، گھبراہٹ، پسینے چھوٹنا اور ہاتھ پیروں کے ٹھنڈے ہوجانے کی علامات ہوتی ہیں۔
 نبض کی رفتار تیز ہوجاتی ہے۔ 
ڈائیسٹولک بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اورنبض کا دباﺅ کم ہوجاتا ہے۔
 اس کے علاوہ پیٹ میں درد، متلی و اُلٹی، بے چینی، ذہنی ہم آہنگی نہ ہونا جسم میں پانی کا جمع ہوجانا، زیر جلد (Mucosa) سے خون کا اخراج، جگر پر ورم اوردرد کی علامات اور نشانیاں، وارننگ کی علامات ہوتی ہیں
 جو شدید ڈینگی فیور کی شاک کی طرف منتقلی ظاہر کرتا ہے، ایسے میں مریض کی حالت انتہائی تشویشناک ہوتی ہے
 جس میں مریض کو فوراً پانی، پلازمہ اور نمکیات کی بحالی اور زندگی کو بحال رکھنے کے (Resuscitation) اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

بحالی کا مرحلہ (Recovery(Convalescent) Phase)

24 سے 48 گھنٹے کے بعد پلازمہ کے اخراج (لیکیج، Leakage) کا عمل رُک جاتا ہے
 اور خون کی نالیوں کے باہر (Extravascular Fluid) دوبارہ جذب ہونا شروع ہوجاتا ہے اور مریض کی عمومی طبیعت بحال ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ 
بھوک بحال ہوجاتی ہے۔

پیٹ کی تکلیف رفع ہوجاتی ہے


 دوران خون کی بحالی ہوتی ہے اور پیشاب کا اخراج شروع ہوجاتا ہے۔
بول چال اوراحساسات میں مثبت فرق نظر آتا ہے۔
 دل کی دھڑکن متوازی اوربلڈ پریشر نارمل ہوجاتا ہے۔ 
اگر مریض کو نس کے ذریعے (Intravenous Fluids) زیادہ ڈرپ (Drip) لگائی گئی ہو توکھانسی اورہاتھ پاﺅں پر سوجن نمودار ہوتی ہے
 جو دل اورپھیپھڑوں کے فعل میں کمی (Pulmonary Oedema or Congestive Heart Failure) © کی علامت ہے لہٰذا ڈاکٹر حضرات اُسے کنٹرول کرنے کے لئے دوائیاں تجویز کرتے ہیں۔ 
گلے میں خرخراہٹ، کھانسی اورسانس لینے میں دشواری جیسی پیچیدگیاں مرض کے دوران نمودار ہوتی ہیں۔
 بہتر علاج کی صورت میں 24 گھنٹے مزید گزرنے کے بعد خون میں سفید خلیوں کا تناسب نارمل لیول پرآجاتا ہے۔
 ڈینگی وائرس کے انفیکشن یا ڈینگی کے مرض کے تینوں مراحل کوعلاماتکے حساب سے یوں تقسیم کیا جاتا ہے۔
کچھ مریضوں میں مخصوص قسم کے دھاپڑ (Rashes)
 ہوجاتے ہیں ۔ 
کچھ مریضوںمیں تمام جسم پر خارش (Pruritis)
 ہوتی ہے۔
اس مرحلہ میں دل کی رفتار کم ہونا اور ای۔سی۔جی (E.C.G) میں بھی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔
اس مرحلہ میں پلیٹ لیٹ اور سفید جرثیموں (Platelets/W.B.C) کی تعداد بحال ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
خلاصہ
پہلا مرحلہ: جسم میں پانی کی کمی ، شدید بخار (شدید بخار کی وہ زبان میں لکنت) نظر میں کمی، چکر آنا۔
 بچوں میں گردن کا اکڑجانا وغیرہ کی علامات شامل ہیں۔
دوسرا مرحلہ: پلازمہ لیکیج کی وجہ سے تشنجی کیفیات، سماعتی و بصری دشواری، بھوک میں کمی۔
تیسرا مرحلہ: خون میں پوٹاشیم کی کمی Hypokalemia) (کا امکان ہوتا ہے اگر مریض کو نس کے ذریعے (Intravenous)
 زیادہ پانی دیا جائے۔

ڈینگی ہیمریجک فیور(Dengue Hemorrahagic) 


مندرجہ ذیل تمام علامات کا موجود ہونا۔
یکدم بخار سے سات دن تک جاری رہنا۔
خون کے اخراج کی علامتیں جو ابتداءمیں جسم پر مختلف قسم کے سرخ نشانات کی شکل میں نظر آتی ہیں جو کہ درج ذیل صورت میں ہوسکتے ہیں۔
پیٹیچیا(Petechiae)
ایکائیموسسز(Ecchymosis)
پرپیورا(Purpura)
منہ سے، آنتوں سے خون اخراج یا انجیکشن لگنے کی وجہ سے خون کا اخراج۔
پلیٹ لیٹس کی مقدار 100,000/mm3 
سے کم ہوجانا۔
پلازما کا نالیوں سے اخراج ، جس کی وجہ سے پھیپھڑوں میں پانی جمع (Pleural Effusion) ہوجاتا ہے،
 پیٹ میں پانی جمع ہوجانا (Ascites)، خون میں پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے (Hypoproteinemia) یا خون میں البیومن (Hypoalbuminemia) 
کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔
-1 مریض کے تھوک، بلغم میں خون کی آمد پھیپھڑوں میں خون رسنے کی علامت ہے، پھیپھڑوں میں زیادہ خون رسنے سے مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوسکتی ہے۔
گردوں کے فعل میں کمی یا گردوں کوناکارہ ہوجانا بھی ممکنات میں شامل ہے۔
-3 آنتوں میں السر کی شکایت۔
-4 بلڈ پریشر میں کمی یا زیادتی کی صورت میں ہارٹ اٹیک۔

جسم سے خون کے اخراج کی پیچیدگیوں(Hemorrhagic Complications) کی صورت میں مریض کو خون لگایا جاتا ہے
 جس کی ابتدائی مقدار 50-90ml 
ہے یہ مقدار ضرورت پڑنے پر بڑھائی بھی جاسکتی ہے۔
یہ خون جسم میں آکسیجن کی بحالی میں مددگار ہوتا ہے، مزید پیچیدگی کی صورت میں مریض کو آکسیجن بھی لگائی جاسکتی ہے۔

ڈینگی شاک سنڈروم (Dengue Shock Syndrome)
اس میں ڈینگی ہیمریجک فیورکی علامات کے ساتھ ساتھ شاک (Shock) کی علامات بھی ہوتی ہے۔
دل کی رفتار کا تیز ہونا (Tachycardia)
ہاتھ، پیروں کا ٹھنڈا ہونا۔
نبض کا کمزور ہونا۔
تھکاوٹ اور بے چینی جو دماغ میں خون کی سپلائی کم ہونے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔
خون کی باریک نالیوںسے خون کی واپسی کی بحالی میں تاخیر ہونا(Delayed Capillary Refill)
ڈائیسٹولک پریشر (Diastolic Pressure) کا بڑھ جانا یعنی 100/80mmHg
عمر کے لحاظ سے بلڈ پریشر میں کمی یعنی 5 سال سے کم عمر بچوں میں سسٹولک بلڈ پریشر (Systolic B.P) 80nm Hg سے کم ہونا، پانچ سال سے بڑے بچوں اور بالغوں میں 90 mmHg 
سے کم ہونا۔


ایکسٹینڈیڈڈینگی سنڈروم (Extended Dengue Syndrome) 

اس سے مراد ڈینگی انفیکشن کا غیرمعمولی انداز سے پیش آنا ہے جس میں اعصابی نظام، جگر، گردے اور دیگر اعضاءبھی ساتھ ساتھ متاثر ہوتے ہیں۔
یہ ڈینگی شاک سنڈروم کی پیچیدگی کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے اور اس میں مریض کی حالت اور اہم علامات مندرجہ ذیل ہوسکتی ہیں ۔
پیٹ کا درد۔
جگر کی سوزش اور جگر کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہونا۔
اعصابی نظام کا متاثر ہونا۔
اخرجی نظام (گردوں کا نظام) کا متاثرہونا۔
دل کے نظام کا متاثر ہونا۔
نظام تنفس کا متاثر ہونا۔ سانس لینے میں دِقت ہونا اور پھیپھڑوں میں خون کا اخراج ہوسکتا ہے۔
پٹھوں کے نظام کا متاثر ہونا۔
لمف نوڈ (Lymph Node)اور تلی (Spleen) کا نظام متاثر ہونا۔
(آنکھوں )بصری کا نظام کا متاثر ہونا۔
اس کے علاوہ بالوں کا گرنا اور نفسیاتی عارضے کی علامات بھی ہوسکتی ہیں۔

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Blog