Guidelines for dengue fever patients and patients

Back to Blog

Guidelines for dengue fever patients and patients

ڈینگی بخار کے مریضوں اور تیمارداروںکیلئے ہدایات


مریضوں کے لئے ہدایات

ایسے مریض جن کے خون میں گلوکوز کی مقدار کم (Hypoglycemic) ہو اور ان کے سفید جسیموں اورپلیٹ لیٹس کی تعداد کم نہ بھی ہو تو انہیں فوراً نس کے ذریعے گلوکوز دی جاتی ہے۔

ایسے مریضوں کے ٹیسٹ روزانہ کرائے جاتے ہیں ، ایسے مریضوں کو گھر بھیجنے سے قبل 24-8 گھنٹے تک مشاہدہ میں رکھا جاتا ہے اور مریض کی تسلی بخش حالت ہونے کی صورت میں گھر بھیجا جاتا ہے اورایسے مریضوں کا روزانہ معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔

مریض کو گھر بھیجنے سے قبل مریض اوراہل خانہ کو کو ضروری ہدایات فراہم کی جاتی ہے۔

ایسے مریض جن کا علاج گھر پر کیا جاسکتا ہے

ایسے مریض جو آسانی سے کھانا ہضم کرسکتے ہوں اور اُن کا پیشاب بھی معمول کے مطابق ہو۔

ایسے مریض جن میں خون کے اخراج کی کوئی علامات نہ ہو۔

ایسے مریض جن میں خطرناک علامات موجود نہ ہوں۔

 ایسے مریض جن میں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوں ان کا علاج گھر پر ہی کیا جاسکتا ہے

بازواور ٹانگیں گرم اور سرخ ہوں۔
نبض کی رفتار اورطاقت معمول کے مطابق ہو۔
بلڈ پریشر نارمل اور مستحکم ہو۔
دل کی رفتار زیادہ اور بے قاعدہ نہ ہو۔
سانس کی رفتار تیز نہ ہو۔
ایسے مریض جن کا جگر بڑھا ہوا نہ ہو اور نہ ہی پیٹ میں درد اور سوزش ہو۔
مریض کے پھیپھڑوں اورپیٹ میں پانی بھرنے کی علامات نہ ہوں۔
مریض ذہنی طورپر ہم آہنگ ہو اور اس کی باتیں بے ربط نہ ہوں۔
ایسے مریض جن کا C.B.C ٹیسٹ کروانا چاہئیے 
بخار کے ہر مریض کا ٹیسٹ ہونا چاہئیے۔
ایسے تمام مریض جن میں وارننگ کی علامات موجود ہوں۔
ایسے تمام مریض جن کے بخار کو تین دن سے زائد ہوگئے ہیں۔
ایسے تمام مریض جو شاک (Shock) کی حالت میں ہوں تو اس کے ساتھ ساتھ ان کا گلوکوز ٹیسٹ بھی ہونا چاہئیے۔
ایسے تمام مریض جن کے سفید جسیموں (W.B.C) کی تعداد اورپلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہو۔ اُن کو فوراً ماہر امراض کو دکھانا چاہئیے۔
مندرجہ ذیل وارننگ علامات کی صورت میں مریض کو فوراً ہسپتال منتقل کرنا چاہئیے
مریض کی علامات اور تکلیف میں کمی اور آرام نہ آرہا ہو اور بخار کے تیز ہونے کے دوران اگر مریض کی حالت سنبھل نہ رہی ہو بلکہ بگڑ رہی ہو تو ہسپتال منتقل کرنا چاہئیے۔
مریض کو مستقل اُلٹیاں ہورہی ہوں اور پانی اور مشروبات بھی پینا ممکن نہ ہو۔

پیٹ میں شدید درد ہورہا ہو تو۔


مریض کا شدید کمزوری محسوس کرنا،نڈھال ہونا ، بے چین ہونا اور گھبراہٹ ہونا جس کے ساتھ ساتھ مزاج ،عادت اور اطوار (Behavioural Changes) میں بھی تبدیلی ظاہر آنا –
ناک کے ذریعے خون کا ضائع ہونا، خون کی اُلٹی ہونا، کالے پاخانے ہونا، دوران ماہواری شدید خون کا جاری ہونا، سرخ رنگ کا پیشاب ہونا یا دیگر اعضاءسے خون ضائع ہونا۔
چکر اورمتلاہٹ ہونا۔
ہاتھ اورپاﺅں ٹھنڈے اورپیلے پڑجانا۔
چار سے چھ گھنٹے میں پیشاب کا نہ آنا یا کم ہونا۔
ایسے مریض جن کو فوراً ماہر امراض کو دکھانا چاہئیے
شاک میں مبتلا مریض۔
ایسے مریض جن میں وارننگ علامات موجود ہوں اور اُن کی بیماری کو چار سےزیادہ دن ہوگئے ہوں ۔
 مریض کے لئے ہدایات
مکمل طور پر بستر پر آرام کرنا۔
پانی اور مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہئیے۔
تیز بخار ہونے کی صورت پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنا اور ساتھ میں پیراسیٹامول کی گولیاں کھلانا۔
اہل خانہ کو وارننگ سائن (انتباہی علامات) کے متعلق خصوصی ہدایات فراہم کرنی چاہئیے کہ ایسی صورت میں فوراً مریض کو ہسپتال لے کر جائیں، چاہے مریض کے معائنہ کا دن ہو یا نہ ہو۔
فالو اپ وزٹ (بحالی کے بعد معائنہ) : 
مریض کو یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ ڈینگی بخار کے دوران مریض کا ایک خطرناک پیریڈ ہوتا ہے جب مریض کے بخار کا دورانیہ ختم ہوجاتا ہے (Afebrile Period)-
فالو اپ کے دوران سی۔بی۔سی (C.B.C) ٹیسٹ وقفہ وقفہ سے کروانا ضروری ہے جس سے مریض کی بحالی کے متعلق علم ہوتا ہے۔
گھر پر مریض کی دیکھ بھال کے لئے متعلقین کیلئے ہدایات
جسم کا درجہ حرارت 39 سنٹی گریڈ (فارن ہائیٹ) سے کم رہنا چاہئیے اگربخار 39 سنٹی گریڈ (فارن ہائیٹ) سے بڑھ جائے تو ٹھنڈے پانی کی پٹیاں ماتھے ، بغل میں ، ہاتھ اور پاﺅں پر رکھنی چاہئیں اگر ضرورت ہو تو بالغ افراد کو نل کےپانی سے نہلایا جاسکتا ہے۔
مریض کو بخار میں پیراسیٹامول کی گولیاں دینی چاہئیے بچوں میں اس کی مقدار 10 ملی گرام فی کلو گرام وزن کے حساب سے دی جاتی ہے۔
یہ ادویات چھ گھنٹے کے وقفے سے دی جاسکتی ہیں۔
گھر کے افراد کے لئے ہدایات نامہ
مریض کو زیادہ سے زیادہ بستر پر آرام کرنا چاہئیے۔
مریض کو زیادہ سے زیادہ مائع کا استعمال دودھ، فروٹ جوس، نمکول کے پانی، گلوکوز کے پانی کی صورت میں کرنا چاہئیے۔
نوٹ: چھوٹے بچوں میں احتیاط کرنی چاہئیے تاکہ پانی کی زیادہ مقدار جسم میں جمع نہ ہوجائے۔
نوٹ :مندرجہ ذیل علامات ڈینگی بخار کی شدت کوظاہرکرتی ہیں۔
شدید پیٹ میں درد، مستقل قے کا آنا،  ٹھنڈے ہاتھ اورپاﺅں
سیاہ پاخانہ،  4-5 گھنٹے تک پیشاب کا نہ آنا وغیرہ
اگر اِن علامات میں سے کوئی ایک علامت ہو تو مریض کوفوراً طبی امداد دی جانی چاہئیے۔
نوٹ: میفینک ایسڈ (Mefenamic Acid)، اسپرین (Aspirin) اور NSAIDs گروپ کی ادویات سے دو ماہ تک پرہیز، 5-10 گلاس پانی کا روزانہ استعمال، مچھروں والی جگہ سے دوری، 10-20 منٹ روزانہ چہل قدمی

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to Blog